اِیمان کی نعمت

کسی کو اسی [پاک] رُوح سے [عجیب کام کرنےوالا] ایمان                   (۱ کرنتھیوں ۱۲ : ۹)

میرا اِیمان ہے کہ کچھ افراد ایسے ہیں جن کو خُدا اِیمان کی نعمت خاص حالات کا سامنا کرنےکے لئے عطا کرتا ہے جیسا کہ خطرناک مشنری سفر یا کٹھن حالات۔ جب یہ نعمت لوگوں کی زندگی میں کام کرتی ہے ان کے لئے خُدا پر بھروسہ کرنا بڑا آسان ہوتا ہے جب کہ ان حالات میں دوسروں کے لئے ایسا کرنا ناممکن ہوتا ہے1۔ جس بات پراُن کا پورا اِیمان ہوتا ہے دوسرے لوگ اُس سے جھجکتے یا خوفزدہ ہوتے ہیں۔

وہ شخص جس کے پاس اِیمان کی نعمت ہوتی ہے اُسے یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ جن کے پاس یہ نعمت نہیں ہے وہ بے اِیمان ہیں کیونکہ یہ خُدا ہے جو کسی شخص کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے غیر معمولی اِیمان بخشتا ہے۔ خُدا اس شخص کو دوسروں کے لئے حوصلہ افزائی اور اطمینان کا وسیلہ بنا سکتا ہے لیکن اُسے خُدا کی اِس نعمت کے لئے فروتن اور شُکر گزار رہنا چاہئے۔ رومیوں ۱۲ : ۳ میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’میں اُس توفیق (خُدا کا وہ فضل جس کے ہم لائق نہیں ہیں) کی وجہ سے جو مجھ کو ملی ہے تم میں ہر ایک سے کہتا ہوں کہ جیسا سمجھنا چاہیے اُس سے زیادہ کوئی اپنے آپ کو نہ سمجھے بلکہ جیسا خُدا نے ہر ایک کو اندازہ کے موافق اِیمان تقسیم کیا ہےاعتدال کےساتھ اپنے آپ کو ویسا ہی سمجھے۔‘‘

ہمیں کیسے ہی حالات کا سامنا کیوں نہ ہوخُدا ضرورت کے مطابق ہمیں  اِیمان بخشے گا۔ اِیمان کی نعمت کسی بھی شخص کو غیر معمولی طور پر دلیر بنا دیتی ہے۔ جس کے پاس بھی یہ نعمت موجود ہے اس کو حساس ہونا اور یہ سمجھنا چاہیے کہ اس کی دلیری خُدا کی طرف سےایک تحفہ ہے اور اس کو اس کے لئے ہمیشہ خُدا کی شُکرگزاری کرنی چاہیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے لئے خُدا کا کلام:

 مشکل کاموں کو سَرانجام دینے کے لئے خُدا نے جواِیمان آپ کو بخشا ہے اُس کے لئے خُدا کا شُکر کریں۔

 

1 آرنلڈ بیٹلینگر، نعمتیں اور توفیق (گرینڈ ریپڈز، ایم. آئی: آرڈمینز، ۱۹۶۷)، ۲۳ ۔ ۴۲۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon