اچھّا پھل لائیں

میرے باپ کا جلال اسی سے ہوتا ہے کہ تم بہت سا پھل (پیدا کرو) لاوٗ۔ جب ہی تم میرے شاگرد ٹھہرو گے۔                             (یُوحنّا ۱۵ : ۸)

آج کی آیت میں خُداوند یسوع نے فرمایا کہ جب ہم پھل لاتے ہیں توخُدا کو جلال ملتا ہے۔ اس نے متّی ۱۲ :۳۳ میں بھی پھل کا ذکر کیا جب اس نے کہا کہ درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے اور متّی ۷: ۱۵ ۔ ۱۶ اس نے اسی اصول کا اطلاق انسانوں پر کیا۔ یہ آیات ہم پر ظاہر کرتی ہیں کہ اِیماندار کی حیثیت سے ہمیں فکر ہونی چاہیے کہ ہم کس قسم کا پھل لاتے ہیں۔ ہم پاک رُوح کا اچھّا پھل لانا چاہتے ہیں (دیکھیں گلتیوں ۵ : ۲۲۔۲۳) لیکن ہم ایسا کس طرح سکتے ہیں؟

ہم جانتے ہیں کہ خُدا بھسم کرنے والی آگ ہے اور یہ کہ خُداوند یسوع کو بھیجا گیا تاکہ وہ ہمیں پاک رُوح اورآگ سے بپتسمہ دے۔ جب تک ہم خُدا کی آگ کو اپنی زندگیوں میں جلنے کا موقع نہیں دیں گے ہم کبھی بھی پاک رُوح کا پھل پیدا نہیں کرسکتے۔

اچھّا پھل پیدا کرنا بہت ولولہ خیز بات معلوم ہوتی ہے جب تک ہمیں یہ علم نہیں ہوتا کہ پھل لانے کے لئے کانٹ چھانٹ کی ضرورت بھی پیش آتی ہے۔ خُداوند یسوع نے کہا ’’جو ڈالی مجھ  میں ہے اور پھل نہیں لاتی اُسے وہ کاٹ ڈالتا ہے اورجو پھل لاتی ہے اُسے چھانٹا ہے تاکہ زیادہ پھل لائے‘‘ (یُوحنّا ۱۵ : ۲)۔ جس طرح آگ ہماری زندگیوں میں پاک رُوح کے کام کو ظاہر کرتی ہے اُسی طرح کانٹ چھانٹ بھی اسکے کام کوظاھرکرتی ہے۔ آگ صفائی اور جسمانی کاموں کے خاتمہ کےلئے ضروری ہے؛ کانٹ چھانٹ ترقی کرنے کے لئے ضروری ہے۔ مردہ چیزوں اورغلط سمت میں جانے والی راہوں کوکاٹنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ’’راستبازی کے درخت ‘‘ بن جائیں اور خُدا کے لئے بہت سا پھل لائیں (یسعیاہ ۶۱ : ۳)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے لئے خُدا کا کلام:

 جب خُدا آپ کی زندگی میں سے کسی چیز کوکاٹتا ہے اس کا مقصد  کسی بہتر چیز کے لئے جگہ بنانا ہوتا ہے۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon