اچھّا چرواہا

اچھّا چرواہا میں ہوں؛میں اپنی بھیڑوں کو جانتا ہوں اور میری بھیڑیں مجھے جانتی ہیں۔                            (یُوحنّا ۱۰ : ۱۴)

اِیماندار کی حیثیت سے خُداکا کلام سُننا ہمارا حق اور استحقاق ہے۔ خُدا ہمیں امتیاز بخشتا ہے تاکہ ہم  اُس کی آواز اور جھوٹ میں فرق کوجان سکیں۔ وہ اس امتیاز کی نعمت کو بھیڑکی جبلت سے تشبیہ دیتا ہے جو اپنے چرواہے کی آواز پہچان لیتی ہے جیسا کہ ہم نے آج کی آیت میں پڑھا۔

اگر ہم واقعی خُدا کے ہیں تو ہم اُس کی آواز اور بھٹکانے والے کی آواز کو پہچان لیں گے۔ ہمیں جانچ کرنا سیکھنا چاہیے اور خُدا کے کردار کو بھی سمجھنا چاہیے۔

مجھے اُس وقت سخت افسوس ہوتا ہے جب بعض لوگ یہ کہتےہیں کہ ’’خُدا نے مجھے فلاں کام کرنے کے لئے کہا ہے‘‘ جب کہ جو کچھ وہ کررہے ہیں وہ اچھّے چرواہے کی طرف سے ہرگز نہیں ہو سکتا۔ میں ایک خاتون کوجانتی ہوں جس نے بتایا کہ ایک روحانی راہنما نے اُسے شادی کی پیشکش کی ہے اور اُس کا کہنا ہے کہ یہ خُدا کی مرضی ہے کہ وہ دونوں شادی کے بندھن میں بندھ جائیں ۔ مسئلہ صرف یہ تھا کہ وہ شخص پہلے ہی سے شادی شدہ تھا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس خاتون نے اس کی بات کا یقین کیا اوراُس کی حوصلہ افزائی کی تا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے اوروہ ایک ساتھ رہ سکیں۔ یہ گناہ اور بے وقوفی ہے اور کبھی بھی خُدا کی مرضی نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ اُس کے کلام کے خلاف ہے۔

لوگ اکثریہ جاننا چاہتے ہیں اورپوچھتے ہیں کہ ’’مجھے کیسے یقین ہوسکتا ہے کہ میں خُدا ہی کی آواز سُن رہا/رہی ہوں؟‘‘ ہم اُس کی آوازاورفریب میں فرق کرسکتے ہیں اگر ہم حقیقی طور پر اُس کے کردار، فطرت اور اِس بات سے واقف ہوں کہ ماضی میں اس نے ان لوگوں کی کس طرح راھنمائی کی تھی جو ہم سے پہلے موجود تھے۔ خُداوند یسوع نے اپنی بھیڑوں کے بارے میں کہا ’’مگر وہ غیر کے پیچھے نہ جائیں گی [کسی بھی صورت میں] بلکہ اُس سے بھاگیں گی کیونکہ غیروں کی آواز نہیں پہچانتی۔‘‘ (یوحنا۱۰: ۵)۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے لئے خُدا کا کلام:

کبھی بھی اپنے جذبات کو اپنے اُوپر حاوی نہ ہونے دیں خاص کر اگر وہ آپ کی کسی ایسی سمت میں راھنمائی کررہے ہیں جو خُدا کے کلام اور کردار کے خلاف ہے۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon