بچّوں کی مانند

میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ اگر تم توبہ نہ کرو(تبدیل ہونا، مڑنا) اور بچّوں کی مانند [بھروسہ کرنا، حلیمی، پیارکرنا، معاف کرنا ] نہ بنوتو آسمان کی بادشاہی میں [ہرگز] داخل نہ ہوگے۔                            (متّی ۱۸ : ۳)

آج کی آیت میں بچّوں کے بارے میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ وہ بھروسہ کرتے ہیں، فروتن ہیں، پیارکرتے اور معاف کرتے  ہیں۔ ذرا سوچیں کہ اگر ہم میں بھی یہ خوبیاں ہوں توہم اپنی زندگیوں اورخُدا اورانسانوں کے ساتھ اپنے تعلق کو کس قدر خوش کُن بنا سکتے ہیں۔ ظاہر ہے خُداوند یسوع جانتے تھے کہ یہ خوبیاں بے حد اہم ہیں کیونکہ وہ کہتا ہے کہ ہم اُن کے بغیر آسمان کی بادشاہی میں داخل نہیں ہوسکتے۔ ہم بُرے رویہ کے ساتھ خُدا کی بادشاہی کے فوائد سے لطف اندوزنہیں ہوسکتے۔

جب میں خُدا کی آواز سُننے کے بارے میں سوچتی ہوں تو میں محسوس کرتی ہوں کہ بچّوں کی مانند بننا بہت ضروری ہے کیونکہ بچّوں کو جوکچھ بتایا جاتا ہے وہ اُس کا یقین کرلیتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ بچّے ناسمجھ ہوتے ہیں کیونکہ وہ بے وقوفی کی باتوں کو بھی مان لیتے ہیں۔ لیکن میں سوچتی ہوں کہ بچّے ناسمجھ نہیں ہوتے؛ میراخیال ہے کہ وہ بھروسہ کرتے ہیں۔ بے شک خُدا نہیں چاہتا کہ ہم ناسمجھ یا نادان ہوں؛ لیکن وہ یہ ضرورچاہتا ہے کہ ہم بھروسہ کرنے والے ہوں۔ بعض اوقات ہم جن لوگوں سےپیار کرتےاوربھروسہ کرتے ہیں وہ ہمیں دھوکہ دیتے ہیں اور پھر ہم کسی پربھی بھروسہ نہ کرنے کی آزمائش میں پڑ جاتے ہیں۔ لیکن کسی ایک شخص کے کئے کی سزا ہم سب کو نہیں سے سکتے۔

اس دنیا میں ایسے لوگ ہیں جن پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا لیکن بہت سے اچھّے لوگ بھی ہیں اور ہمیں شک کی روح کے ساتھ زندگی گزارنے سے انکار کر دینا چاہیے۔

خُدا مکمل طور پر قابلِ بھروسہ ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ تمام بنی نوع انسان پربلامشروط بھروسہ نہیں کیا جاسکتا لیکن صرف خُدا پربھروسہ کیا جاسکتا ہے۔

خُدا چاہتا ہے کہ آپ اس کے پاس بچّوں کی مانند آئیں اس پر مکمل بھروسہ کریں اور اُس کی ہربات کا یقین کریں ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ مکمل طور پر قابلِ بھروسہ ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے لئے خُدا کا کلام:

اِکا دُکا برُے تجربات کو اپنی زندگی پر راج کرنے کی اجازت نہ دیں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon