بیاہ میں قربانی

بیاہ میں قربانی

اگر میں آدمیوں اور(یہاں تک کہ) فرشتوں کی زبا نیں بولوں(بولنے کی صلاحیت) اور محبت نہ رکھوں(ہمارے مقاصد،ارادوں اورعبادت میں خدا کی محبت نہ ہو) تومیں ٹھنٹناتا پیتل یا جھنجھناتی جھانجھ ہوں۔۱ کرنتھیوں ۱۳: ۱

ہمارے شادی کے ابتدائی دنوں میں خدا نے مجھے سکھایا کہ اپنے شوہر ڈیو سے حقیقی محبت کرنے کا مطلب ہے کہ مجھے قربانی دینی ہوگی۔اس سے پہلے میں اپنی مرضی پوری کرنے پر مصر رہتی تھی اور میں ۱ کرنتھیوں ۱۳: ۱ میں مذکورہ ٹھنٹھناتے پیتل کی مانند تھی۔

محبت بلوغت کی سب سے اعلیٰ شکل ہے۔ ضروری ہے کہ ہم ایسا تحفہ پیش کریں جس میں قربانی دینی پڑے۔ اگر ہم کسی شخص کے لئے کوئی قربانی نہیں دیتے تو شاید ہم اس شخص سے حقیقی محبت نہیں کرتے۔ اگر ہمارے عمل میں کوئی قربانی نہیں ہے توا س کی بہت سے وجوہات ہو سکتی ہیں شاید ہم بدلےکے طور پراس شخص کے ساتھ اچھا سلوک کر رہے ہیں دوسرے لفظوں میں ہم اچھا بننے کا ڈرامہ کر رہے ہیں یا شاید ان پراپنا کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ حقیقی محبت خود کو قربان کر دیتی ہے۔ پس جب آپ فیصلہ جات کرتے ہیں تو اپنے جیون ساتھی کی دلچسپی کا بھی ملحوظِ خاطر رکھیں۔ جب آپ ایسا کریں گے تو اس کامطلب ہے کہ آپ اپنے آپ کو قربان کر رہے ہیں۔

خدا کی آرزو ہے کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے سے غیرمشروط محبت کریں۔ جس کے معنیٰ ہیں کہ آپ ہمیشہ اپنی مرضی نہیں تھوپنا نہیں چاہتے۔ لیکن خوش خبری یہ ہے کہ جب میاں بیوی اپنی خود غرضانہ خواہشات کو قربان کر دیتے ہیں تو ایسی شادی شدہ زندگی کامیاب ہوتی ہے!

یہ دُعا کریں:

اے خدامیری شادی شدہ زندگی میں حقیقی محبت ہو۔آج میں ایک فیصلہ کرتا/کرتی ہوں کہ اپنی مرضی  کے لئے دباوٗ ڈالنے کی بجائے اپنے جیون ساتھی کے لئے قربانی دینے کو تیار رہوں گا/گی۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon