جواب ستاروں میں نہیں ہے

جو جِنّات کے یار ہیں اور جوجادوگر[عاملہیں تم اُن کے پاس نہ جانا اور نہ اُن کے طالب ہونا کہ وہ تم کونجس بنادیں۔ میں خُداوند تمہارا خُدا ہوں۔                          (احبار ۱۹ : ۳۱)

اِیماندار کی حیثیت سے روحانی عالم میں ہمیں خُدا کے حضور میں رسائی حاصل ہے ۔ ہم خُدا کی آواز سُن سکتے ہیں اور اُس سے راھنمائی حاصل کرسکتے ہیں۔ بہت سے لوگ روحانی راھنمائی چاہتے ہیں لیکن سب خُدا سے مانگتے نہیں۔

تمام دنیا میں لوگ مشورے اور راھنمائی کے لئے ستاروں، عالموں، نجومیوں اور اس طرح کے اور وسیلوں اور لوگوں کے پاس جاتے ہیں۔ یہ غلط ہے اور خُدا ان باتوں سے ناراض ہوتا ہے۔ شیطان بہت سے لوگوں کواِس گمراہی کے راستہ پر لے چلتا ہے۔ لوگ اپنی زندگیوں میں راھنمائی اور مسائل کا حل تلاش کررہے ہیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان کو یہ نہیں سیکھایا گیا کہ یہ سب خُدا مہیا کرسکتا ہے۔ آج کی تحریرکا  مقصد آپ کو یہ بتانا ہے کہ خُدا آپ کے لئے معلومات کا منبع بننا چاہتا ہے۔ وہ اپنے کلام اور پاک رُوح کے وسیلہ سے ہر روز آپ کی راھنمائی کرنا چاہتا ہے ۔

میں نے ایک عورت کے ساتھ کام کیا ہے جو علمِ نجوم میں گہرے طور پر ملوث تھی۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے وہ ستاروں کا حال پڑھتی تھی۔ یہاں تک کہ وہ اپنے بال کٹوانے سے پہلے ستاروں کی چال پر غورکرتی تھی کہ اس کو ایسا کرنا بھی چاہیے یا نہیں۔ ہم ستاروں سے رجوع کیوں کریں جب کہ ہم خُدا سے صلاح لے سکتے ہیں جس نے ستاروں کو بنایا ہے؟

اگر آپ خُدا کے علاوہ کسی بھی اور چیز سے راھنمائی اور صلاح لینے میں ملوث ہیں تو میں آپ کو نصیحت کرنا چاہتی ہوں کہ توبہ کریں اوراس کی طرف مڑیں اور پاک رُوح سے کہیں کہ وہ آج سے زندگی میں آپ کا واحد راھنما بن جائے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے لئے خُدا کا کلام:  صرف خُدا سے ہی راھنمائی اور معلومات کلئے رجوع کریں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon