خُوشی کی بنیاد

اَب سب کچھ سُنایا گیا۔ حاصل کلام یہ ہے۔ خُدا سے ڈر [اُس کی تعظیم کر اور اُس کی پرستش کر، یہ جان کر کہ وہی خُداوند ہے] اور اُس کے حکموں کو مان کہ انسان کا فرضِ [ذمہ داری] کُلّی [پورا ور اصل مقصد تخلیق کا … ساری خوشی کی بنیاد…]  یہی ہے۔                               (واعظ ۱۲ : ۱۳)

واعظ کا مصنف ایک ایسا شخص تھا جس نے خوش ہونے کے لئے ہرطرح کا کام کیا۔ اس کے پاس بیش بہا دولت، بڑی طاقت اور بہت سے بیویاں تھیں۔ اس نے خود کو کسی بھی زمینی عیش وعشرت سے باز نہ رکھا۔ جو اس کی آنکھیں خواہش کرتی تھیں وہ حاصل کرلیتا تھا۔ اس نے کھایا، پیا اور خوشی منائی۔ اس کے پاس بے انتہا علم ، حکمت اور عزّت تھی۔ اس کے باوجود اُسے زندگی سے نفرت تھی۔ ہر چیز اسے بے کار معلوم ہونے لگی تھی۔ اُس نے سوچنا شروع کیا کہ زندگی کیا ہے اس سے وہ اور بھی زیادہ اُلجھ گیا۔

آخرکاراُس نے جان لیا کہ اُس کا مسئلہ کیا ہے۔ وہ خُدا کے احکامات کی فرمانبرداری نہیں کررہا تھا۔ اوروہ اِس سبب سے ناخوش تھا اوراس نے یہ مقولہ کہا کہ تمام خوشی کی بنیاد فرمانبرداری  ہے۔

بےشمار لوگ اُداس اور غمگین ہیں اوروہ اپنی ناخوشی کے لئے دوسرے انساںوں اورحالات کو موردِ الزام ٹھہراتے ہیں، وہ یہ نہیں جانتے کہ اُن کی بے اطمینانی کی وجہ خُدا کی نافرمانی ہے۔

مجھے یقین ہے کہ آپ خوش رہنا چاہتے ہیں۔ خُدا کی فرمانبرداری خوشی کی کُنجی ہے۔ واعظ ۱۲ : ۱۳ میں بیان کیا گیا ہے کہ فرمانبرداری ’’تمام بے ترتیب حالات میں درستگی‘‘ کا نام ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہر بے ترتیب اور بے ہنگم چیز کی وجہ نافرمانی ہے اور صرف فرمانبرداری سے اس میں مطابقت پیدا ہوسکتی ہے۔ جب بھی ہم خُدا کی فرمانبرداری کرتے ہیں ہماری زندگی میں کچھ نہ کچھ ترقی حاصل ہوتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے لئے خُدا کا کلام:  ہر بات میں خُدا کی فرمانبرداری کرنے کافیصلہ کریں اور آپ کی خوشی بڑھ جائے گی۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon