کبھی کبھار خُدا سرگوشی کرتا ہے

اُس نے کہا باہر نکل اور پہاڑ پر خُداوند کے حضور کھڑا ہو اور دیکھو خُداوند گزرا او ایک بڑی تند آندھی نے خُداوند کے آگے پہاڑوں کو چیر ڈالا اور چٹانوں کے ٹکڑے کر دئیے پر خُداوند آندھی میں نہیں تھا اور آندھی کے بعد زلزلہ آیا پر خُداوند زلزلہ میں نہیں تھا۔ اور زلزلہ کے بعد آگ آئی پر خُداوند آگ میں بھی نہیں تھا اور آگ کے بعد [ایک نرم خاموشی کی آواز] ایک دبی ہوئی ہلکی آوازآئی۔   (۱ سلاطین ۱۹ : ۱۱۔۱۲)

کچھ سال پہلے گھوڑوں کو سُدھانے والوں سے مجھے یہ پتہ چلا کہ کچھ گھوڑوں کو قابومیں کرنے کے لئے لگام کی ضرورت نہیں ہوتی ان کے ’’کان ہی لگام ‘‘ ہوتے ہیں۔ جب کہ کچھ گھوڑوں کو لگام  کی ضرورت ہوتی ہے جوان کےمنہ کے اندر باندھی جاتی ہے، دوسری طرف کچھ گھوڑے ایسے ہوتے ہیں جو ایک کان اپنے مالک کی آواز کی طرف لگا کر رکھتے ہیں۔ ایک کان آس پاس ماحول  کےلئے کھلارہتا ہے؛ جب کہ دوسرا کان بھروسہ مند تربیت کار کی طرف۔

ایلیاہ نبی کے پاس بھی لگامی کان موجود تھا۔ جب فطری حالات کی وجہ سے خوف زدہ ہونا چاہیے تھا وہ خُدا کی آوازسننا چاہتا تھا، اور اس نے اپنےارد گرد شوراوراَبتری کے باوجود خُدا کی آواز سن لی۔ غورکریں کہ کچھ دیر پہلے ہی زندہ خُدا اور گونگے بعل کی طاقت کے مظاہرے میں اس نے ۴۵۰ نبیوں کو شکست دی تھی ۔اور اب بدکار ملکہ ازیبل نے اسے ایک ہی دن میں مارنے کی دھمکی دے دی۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ کیا کرے!

وہ ایک پہاڑ پر خُدا کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ ایک بڑی تند آندھی پہاڑوں کو چیرتی ہوئی گزری؛ ایک خوفناک زلزلہ آیا؛ اور آگ اس کے چاروں طرف پھیل گئی۔ آگ کے بعد ایک ’’دبی ہوئی ہلکی آواز ‘‘ آئی۔ ایلیاہ نے خُدا کی آواز تندآندھی میں نہیں، زلزلہ میں نہیں، یا آگ میں نہیں بلکہ سرگوشی میں سُنی۔ ایلیاہ کے پاس لگامی کان تھے،ایک کان اپنے مالک کی آواز سُننے کے لئے حساس تھا، اس لئے اس نے خدا کی مرضی کے مطابق عمل کیا، اور اس کی زندگی بچ گئی۔

آج بھی خدا نرمی اور سرگوشی میں ہمارے باطن میں کلام کرتا ہے۔ اس سے سُننے والے کان کے لئے دُعا کریں تاکہ آپ اُس کی دبی ہوئی،ہلکی آواز سُن سکیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے لئے خُدا کا کلام:

  خُدا  کی آواز سُنیں ’’لگامی کان‘‘ کے وسیلہ سے۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon