جب ہم پرستش کرتے ہیں تو خدا بات کرتا ہے

آوٰ ہم جھکیں اور سجدہ کریں ! اور اپنے خالق خُداوند کے حضور گھٹنے ٹیکیں[ تعظیماً عبادت کرتے ہوئے اور التجاوٗں کے ساتھ]۔  ( زبور ۹۵ :۶ )

میرااِیمان ہے کہ پرستش ایسے ماحول کو جنم دیتی ہے جس میں خُدا ہم سے بات کرسکتا ہے۔ پرستش کو بیان کرنا مشکل ہے۔اس سے مُراد خدا کی ہستی کو سراہنا ہے نہ کہ ان کاموں کا ذکرکرنا جو اس ہمارے لئے کئے ہیں۔ حقیقی پرستش ہمارے اندر سے نکلتی ہے؛ یہ قیمتی اور شاندار ہےاور یہ خدا کے بارے میں اپنے احساسات کو الفاظ دینے کی کوشش ہے۔ پرستش کے وسیلہ سے ہم اپنے دل کو بڑے جوش کے ساتھ خداوند کے لئے انڈیلتے ہیں اور یہ ہماری محبت کی گہرائی ، شکرگزاری اور عقیدت  کو ظاہر کرتی ہے جن کوالفاظ میں ڈھالنا مشکل لگتا ہے۔انسانی زبان اتنی زرخیز نہیں کہ حقیقی پرستش کو بیان کرسکے۔ درحقیقت پرستش اس قدرشخصی اور گہری ہے کہ شاید ہمیں اس کو الفاظ میں محدود کرنے یا بیان کرنے کی جرات نہیں کرنی چاہیے۔

پرستش محض گیت گانے سے بہت بڑھ کر ہے۔ در حقیقت سب سے پہلے اور اولین طور پر حقیقی پرستش ہمارے دل کی کیفیت اور ذہنی حالت ہے۔ عین ممکن ہے کہ ہم کچھ گائے بنا ہی بڑے جوش سے پرستش میں مگن ہوں؛ پرستش ہمارے دلوں میں جنم لیتی ہے؛ یہ ہماری سوچوں کو معمورکردیتی ہے اور پھر ہمارے لبوں اوربدنوں سے اس کا اظہارہوتا ہے۔اگر ہمارے دل خدا کے خوف سے معمور ہیں تو ہوسکتا ہے کہ ہم گیت گانا، ناچنا،تالی بجانا اور پرستش میں اپنے ہاتھوں کو بُلند کرنا چاہیں۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہم اس کی تعظیم میں خاموشی سے کھڑے رہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہم ہدیہ دینا چاہیں یا خدا کی محبت کا اظہار کسی اور طریقے سے کرنا چاہیں۔ لیکن اگر ان میں سے کوئی بھی عمل درست رویے کے بغیرہوگا تویہ محض رسمی اور خُدا کی نظر میں بے معنیٰ ہے۔

میں آپ کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہوں کہ آج سچائی سے خدا کی پرستش کریں ۔ چونکہ آپ اُس سے محبت کرتے ہیں اس لئے اُس کی پرستش کریں اور پرستش کے دوران اگر وہ آپ سے بات کرے تو حیران نہ ہوں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے لئے خُدا کا کلام: خ

دا کی پرستش شکر گزار دل کے ساتھ ،اس کی حیثیت کے مطابق کریں ۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon