فکر مندی کی حالت میں دُعا کی عادت اپنائیں

فکر مندی کی حالت میں دُعا کی عادت اپنائیں

کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہرایک بات میں تمہاری درخواستیں دُعا اور منت(مخصوص درخواست) کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خُدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ فلپیوں ۴ : ۶

جب آپ کسی بوجھ تلے ہوں تو اس مسئلے کے تعلق سےبات کرنے کے بجائے اچھّا ہے کہ اُس کے لئے دُعا کی جائے۔ دُعا کامیاب زندگی کا عکس ہے۔ یسوع نے اپنی زمینی خدمت کے دوران دُعا کی۔ وہ دُعا کے وسیلہ سے ہرکام خُدا کے سُپرد کرتاتھا ۔۔۔ جس میں اُس کی زندگی کے تمام معاملات شامل تھے۔ ہم بھی ایسا ہی کرسکتے ہیں۔ ہمیں اپنے تمام مسائل اُس کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے؛ ہمیں تو بس یہ کرنا ہے کہ اپنے تمام مسائل اُس کے حوالے کردیں اوراُس سے کہیں کہ وہ سب باتوں کو اپنے ہاتھ میں لےلے۔

محتاط رہیں اوردُعا کوبہت پیچیدہ نہ بنا ئیں۔ میرا خیال ہے کہ بہت سے لوگ خدا سےدُعا میں وقت گزارنے کے لئے تنہائی کی تلاش کرتے یا گرجا گھر جانے کا انتظار کرتے ہیں اور یہ نہیں جانتے کہ وہ کسی بھی وقت دُعا کرسکتے ہیں۔ اعتماد کے ساتھ سادہ اورایمان سے پرُ دعا کریں اورفلپیوں ۴ : ۶ میں موجود پولس کی ہدایت کو یاد رکھیں۔ جب آپ کومشکلات کا سامنا ہو توفکر کرنے کی بجائے سادگی سے دُعا میں خدا سے مدد مانگیں۔

بائبل فرماتی ہے کہ خُدا وفادار ہے۔۔۔ یہ اُس کی بہت سی خوبیوں میں سے ایک ہے۔ ہم اُس پر بھروسہ کرسکتے ہیں کہ جب ہم اُس سے مدد کی درخواست کریں گے وہ ہمارے لئے آموجود ہوگا۔ پس ہم اس پر مکمل طورپر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ جب ہم ایسا کریں گے تو ہم ہر قسم کے حالات کے لئے تیار رہیں گے۔

یہ دُعا کریں:

اَے خدا میں اپنی زندگی فکرمندی میں گزارنے کی بجائے آج ہی ہروقت دُعا کرنے کی عادت کو اپنانے کا فیصلہ کرتا/کرتی ہوں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon