آپ کے منہ سے اَدا ہونے والے الفاظ

موت اور زندگی زبان کے قابو میں ہیں اور جو اُسے دوست رکھتے ہیں اُس کا پھل (زندگی یا موت) کھاتے ہیں۔   امثال 18 : 21

پطرس رسول بڑی صفائی سے بتاتے ہیں کہ زندگی سے لطف اندوز ہونے اور اچھّے دن دیکھنے کی آرزو کرنا، اور مثبت سوچ اور گفتگو ایک دوسرے کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں۔ اگر ہم اپنی گفتگو تبدیل کرلیں، ہماری زندگی بدل جائے گی!

ہماری گفتگو ہماری سوچ، احساسات اور چاہتوں کا مظہر ہے۔ ہمارے ذہن خیالات سے پُر رہتے ہیں اور ضروری نہیں کہ ہر خیال خُدا کی طرف سے ہو۔ ہماری مرضی ہم پرہماری چاہتوں کو ظاہر کرتی ہے اور ضروری نہیں کہ وہ خُدا سے مطابقت رکھتی ہوں۔ جب ہماری رُوح پاک ہوجاتی ہے، تو پھر خُدا کی مانند سوچنے، خواہش کرنے اور محسوس کرنے کی مشق ہوتی ہے اورپھر ہم موت کی بجائے زندگی کی باتیں کرنا شروع کرتے ہیں۔

آپ کی گفتگو آپ کی سوچ کی آئینہ دار ہے اور اِس میں نہ صرف آپ کی زندگی کے لئے بلکہ بہت سے لوگوں کی زندگی کے لئے برکت اور لعنت کی قدرت ہے۔ 1 کرنتھیوں 2 : 16 میں خُدا کا کلام ہمیں سیکھاتا ہے کہ ہم میں مسیح کی عقل ہے اور ہم اُس کے دِل کے خیالات، احساسات اور مقاصد جانتے ہیں۔ ہم ہر وقت ان کو ظاہر نہیں کرتے لیکن ہم ہر روز بڑھ رہے اور مسیح کی صورت پر ڈھل رہے ہیں۔ وہ جس نے ہم میں نیک کام شروع کیا ہے وہی اُسے مکمل اور پورا بھی کرے گا (فلپیوں 1 : 6)۔ جس قدر ہم خُدا کی قربت میں رہتے ہیں اتنا ہی جلد ہم اپنی سوچ، گفتگو، جذبات اور برے رویے پر فتح حاصل کرتے ہیں۔

 

تبدیلی کا سفر اگرچہ لمبا ہوسکتا ہے لیکن میں جانتی ہوں کہ آپ بدل سکتے ہیں کیونکہ میں بدل گئی۔ اس کے لئے وقت اور پاک روح کی "ڈھیروں مدددرکار تھی لیکن اس کا نتیجہ بہت اچھّا نکلا۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon