PT-155 خُداوند ہمارا مہیا کرنے والا

ببر کے بچّے تو بھوکے اور حاجتمند ہوتے ہیں پر خُداوند کے طالب (اس کو جاننے اور ڈھونڈے والے) کسی نعمت (اپنی ضرورت کے مطابق اور خُدا کے کلام کے اختیار کے مطابق) کے محتاج نہ ہوں گے۔                      زبور 34 : 10

یہ بہت ضروری ہے کہ ہم "کثرت کا طرزِ فکر” اپنائیں ـــــ یہ سوچ کا ایسا انداز ہے جس میں یہ یقین پایا جاتا ہے کہ جو کچھ اور جس وقت ہمیں چاہیے خُدا ہمیشہ مہیا کرے گا۔ سارے کلام میں یہ خُدا کا وعدہ ہے، اور اُس کے کردار کا حصہ ہے کہ وہ اپنے بچّوں کی ضرورتیں پوری کرتا ہے۔ دراصل پُرانے عہد نامہ میں خُدا کے عبرانی ناموں میں سے ایک نام یہواہ یری ہے جس کا مطلب ہے” خُدا مہیا کرے گا۔”

ہماری ضرورت کی کوئی ایسی چیز نہیں جسے وہ مہیا نہ کرسکتا ہو یا مہیا کرنے کے لئے رضامند نہ ہو۔ وہ ہم سے مُحبّت کرتا ہے اور ہمارا خیال رکھنا چاہتا ہے۔ جب ہم اُس سے مُحبّت کرتے ہیں اور اپنی پوری کوشش کرتے ہیں تاکہ اُس کی فرمانبرداری کریں اور بتدریج اُس کے راستوں کو جانیں تو وہ ضرور ہماری ضرورتوں کو پورا کرنے کی یقین دہانی کرتا ہے۔ دراصل کوئی ایسا نہیں ہے سوائے اُس کے بچّوں کے جن کے ساتھ وہ اپنی برکات کو بانٹنا چاہتا ہو۔

 

آج کا قوّی خیال: خُدا میری ضرورتوں کو پورا کرکے شادمان ہوتا ہے۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon