چنانچہ ہم تصورات اور ہر ایک اُونچی چیز کو جو خُدا کی پہچان کے برخلاف سر اُٹھائے ہوئے ہے ڈھا دیتے ہیں اور ہر ایک خیال کو قید کرکے مسیح کا فرمانبردار بنا دیتے ہیں۔ 2 کرنتھیوں 10 : 5
اس حوالہ کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ کسی غلط خیال کو جو آپ کے دِل میں پیدا ہوتا ہے پہچان لیتے ہیں تو آپ فوراً اس پر توجہ نہ کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ آپ کو کتنی بار صیح فیصلہ کرنے کی ضرورت پڑے گی؟ اِس کا جواب ہے: ہر روز، زندگی بھر۔
اگر آپ اس خیال سے گھبرا گئے ہیں کہ یہ کام آپ کو اپنی تمام عمر کرنا پڑے گا تو اس کو فرض سمجھنے کی بجائے ایک استحقاق سمجھیں۔ خُدا کا شُکر کریں کہ اُس نے ہمیں توفیق عنایت کی ہے ہم اپنے بارے میں سوچ سکتے ہیں اور ہمیں کسی بھی ایسے بیرونی آوارہ خیال کے ساتھ جو ہمارے ذہن میں آتا ہے چپکے رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم خُدا کے کلام کے مطابق اپنے خیالات کو ڈھال سکتے ہیں، اور جب ہم ایسا کرتے ہیں، تو ہم ایسی زندگی کا تجربہ کرتے ہیں جس کو دینے کے لئے مسیح ہماری خاطر موا۔
آج کا قوّی خیال: جیسے ہی میں غلط خیال کو پہچان لیتا/لیتی ہوں میں اُسے جھڑک دیتا/دیتی ہوں۔