سن اَے اسرائیل! خُداوند ہمارا خُدا ایک ہی خُداوند (واحد خُداوند) ہے۔ استثنا 6 : 4
ایسا لگتا ہے کہ پُرانے عہد نامہ میں بنی اسرائیلیوں کے لئے خُدا کی "وحداینیت” کا معاملہ بہت خاص معنیٰ رکھتا تھا (دیکھیں زبور 50 : 1 اور ملاکی 2 : 10) ایسا کیوں تھا؟
اُن کے زمانہ کے غیر قوم والے یہ اِیمان رکھتے تھے کہ ہر معاملہ کے لئے الگ خُدا ہے ـــــ اولاد حاصل کرنے کے لئے وہ باروی کے دیوتا سے دُعا کرتے تھے؛ فصل اُگانے کے لئے وہ فصل کے دیوتا سے دُعا کرتے تھے۔ یہ مختلف قسم کے دیوتا تھے اور لوگوں کی زندگی میں جس چیز کی ضرورت یا کمی ہوتی تھی مثلاً بیماری سے شفا، اطمینان حاصل کرنا وغیرہ یہ سب دیوتا اُس کو پورا کرنے کے لئے مختلف قربانیوں کا تقاضا کرتے تھے۔ تصور کریں کہ یہ کس قدر پیچدہ سلسلہ تھا۔
اِس لئے جب ایک سچّے خُدا نے اُن پر خود کو ظاہر کیا اور لوگوں کو بتایا گیا کہ وہ اُن کی سب ضرورتوں کو پورا کرسکتا ہے تو یہ اُن کے لئے بڑی خوشخبری تھی۔ پس اگر آپ کو اطمینان کی ضرورت ہے ، اگر آپ کو راستبازی کی ضرورت ہے، اگر آپ کو اُمید کی ضرورت ہے، اگر آپ کو خوشی کی ضرورت ہے، اگر آپ کو شفا کی ضرورت ہے، اگر آپ کو روپئے پیسے کی ضرورت ہے ـــــ یا آپ کو کسی بھی چیز کی ضرورت ہے تو بس ایک سچّے خُدا کے پاس آجائیں۔
آج کا قوّی خیال:میں ایک سچّے خُدا کے پاس جاتا/جاتی ہوں، اور وہ میری تمام ضرورتوں کو پورا کرتا ہے۔