تو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا، تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اس کے غلام اور اس کی لونڈی کا اور اس کے بیل اور اس کے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کسی اور چیز کا لالچ کرنا۔ خروج 20 : 17
جب ہم دوسروں کی چیزوں کے بارے میں منفی گفتگو کرتے ہیں ـــــ یعنی اُن کے گھروں، گاڑیوں، زیورات، کپڑوں کے بارے میں ـــــ تو اس کی اکثر وجہ یہ ہوتی ہے کہ جو کچھ ہمارے پاس ہے (یا نہیں ہے) اس کے بارے میں ناخوش ہیں۔، نہ کہ جو کچھ ان کے پاس ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ کسی کی گاڑی کے بارے میں کوئی بُری بات کررہے ہیں ـــــ کہ وہ بہت مہنگی ہے، یا یہ کہ اس کار کا مالک کس قدر فضول انسان ہے ـــــ تو دراصل آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ "میرے پاس جو گاڑی ہے میں اس سے خوش نہیں ہوں؛ مجھے جلن ہورہی ہے اور مجھے تمہاری گاڑی چاہیے۔”
کیا کبھی آپ نے کسی کے بارے میں سُنا ہو کہ اسے فلاں برکت ملی ہے اور یہ سُن کر سوچا ہو، کہ مجھے یہ برکت کب ملے گی؟جب خُدا کسی کو کوئی ایسی برکت دیتا ہے جو آپ لینا یا رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے بارے میں ناخوش ہونے یا حسد یا رشک کرنے کی بجائے اُن کے لئے خوش ہوں اور اُن کی برکت سے حوصلہ پائیں، اور اِیمان رکھیں کہ جو کچھ خُدا نے اُن کے لئے کیا ہے وہ آپ کے لئے بھی کرسکتا ہے۔
آج کا قوّی خیال:میں دوسروں کے لئے خوش ہوں جن کو خُدا کی برکات ملی ہیں۔ اگر خُدا ان کے لئے کر سکتا ہے تو وہ میرے لئے بھی کرسکتا ہے۔