PT-174 آہستہ کرنا اچھّا ہے

اَے میرے پیارے بھائیو! یہ (اس) بات تم جانتے ہو پس ہر آدمی سُننے میں تیز (سُننے کے لئے تیار) اور بولنے میں دھیرا اور قہر میں دھیما ہو۔ کیونکہ اِنسان کا قہر خُدا کی راستبازی کا کام (مرضی اور تقاضہ کے مطابق) نہیں کرتا۔                       یعقوب 1 : 19 – 20

اِن آیات میں خُدا ہمیں بتا رہا ہے کہ ہم کم بولیں اور زیادہ سُنیں۔ اِس کے بارے میں سوچیں۔ اگر خُدا چاہتا کہ ہم بولنے میں تیز ہوں اور سُننے میں دھیرے، تو وہ ہمارے دو منہ اور ایک کان بناتا!

خُدا ہمیں یہ بھی بتا رہا ہے کہ ہم نہ تو جلدی سے روٹھیں اور نہ ہی غُصّہ کریں۔ اگر آپ غُصّہ کرنے میں تیز ہیں یا آپ بدمزاج ہیں تو زیادہ سُننے اور کم بات کرنے کی مشق کریں۔ دھیما اچھّا ہے۔ غُصّہ کے بارے میں آپ کو جو بھی کتاب ملتی ہے اُس کا مطالعہ کریں۔ اپنے ذہن میں بار بار اس بات کو دہرائیں: میں سُننے میں تیز اور بولنے میں دھیرا ہوں، غُصّہ کرنے میں دھیما، اور معاف کرنے میں تیز ہوں۔ خُدا پر بھروسہ کریں کہ وہ آپ کی مدد کرے گا تاکہ آپ اپنے غُصّہ کے جذبات کو قابو میں کرسکیں۔ اگر آپ اِس زندگی سے جو خُدا نے آپ کے لئے مقّرر کی ہوئی ہے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو یہ بہت ضروری ہے کہ آپ اس جذبہ کو قابو میں رکھیں۔

 

آج کا قوّی خیال: میں سُننے میں تیز اور بولنے میں دھیما/دھیمی ہوں اور غُصّہ کرنے میں دھیما اور معاف کرنے میں تیز ہوں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon