سب کام شکایت اور تکرار بغیر کیا کرو۔ فلپیوں 2 : 14
بنی اسرائیل بیابان میں چالیس سال تک آوارہ پھرتے رہے جب کہ وہ صرف گیارہ دِن کا سفر تھا اور اُس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ بڑبڑاتے اور شکایت کرتے تھے۔
"اور لوگ خُدا کی اور موسیٰ کی شکایت کرکے کہنے لگے کہ تم کیوں ہم کو مصر سے بیابان میں مرنے کو لے آئے؟ یہاں تو نہ روٹی ہے نہ پانی اور ہمارا جی اِس نِکمی (حقیر،بیکار) خوراک سے کراہیت کرتا ہے۔” (گنتی 21 : 5)۔ کیا آپ ان کے بُرے رویے کی باز گشت سُن سکتے ہیں؟ اُن کا ماننا تھا کہ ان کی بے چینی خُدا کی غلطی ہے! یا موسیٰ کی غلطی ہے! اور وہ اس معجزاتی مَن کے بارے میں شکایت کررہے تھے جو خُدا ہر روز آسمان سے اُن کے لئے بھیجتا تھا تاکہ اُن کو خوراک بہم پہنچائے!
شکایت کرنے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ اس کے سبب سے ہم ان تمام برکات کو دیکھنے سے قاصر رہتے ہیں جو ہمارے پاس پہلے سے موجود ہیں۔ کیا آپ کسی قسم کے حالات یا معاملہ سے چھٹکارا پانا چاہتے ہیں ؟ تو ایسی چیزوں کی تلاش شروع کردیں جن کے لئے آپ کو شُکرگزار ہونا چاہیے۔ ان چیزوں پر غور نہ کریں جو آپ کے پاس نہیں ہیں، لیکن مسیح میں ان سب چیزوں پر غور کریں جو آپ کے پاس ہیں۔
آج کا قوّی خیال: میں ہر وقت اُن سب چیزوں کے لئے جو مسیح میں مجھے ملی ہیں شُکرگزار رہتا/رہتی ہوں۔