پس اِنسان کے لئے اِس سے بہتر کچھ نہیں کہ وہ کھائے اور پئے اور اپنی ساری محنت کے درمیان خوش ہو کر اپنا جی بہلائے۔ میں نے دیکھا یہ بھی خُدا کے ہاتھ سے ہے۔ واعظ 2 : 24
اس حوالہ میں سلیمان بادشاہ، جسے بہت دانشمند سمجھا جاتا تھا، کہتا ہے کہ تمہیں اپنی ساری محنت سے خوش ہونا چاہیے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایسا کام ہے جسے کرنا ہمارا شخصی فیصلہ ہے۔ آپ اپنی ساری زندگی ان باتوں سے بھی شادمان رہ سکتے ہیں، جن سے دوسرے لوگ عام طور پر اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں۔
بہت سے لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ زندگی میں بس "گزارہ” کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، لیکن میرا اِیمان ہے کہ زندگی کے ہر لمحہ سے لطف اندوز نہ ہونا ایک المیہ ہے۔ میں اِقرار کرتی ہوں کہ اگر موازنہ کیا جائے تو زندگی میں کچھ باتیں زیادہ خوشی کا باعث ہوتی ہیں، لیکن آپ جو کچھ بھی کرتے ہیں اس میں خُدا کی حضوری سے لطف ہونا سیکھیں۔ اپنے باطن میں تمام دِن یہ دہرانے کی کوشش کرتے رہیں: خُدا میرے ساتھ ہے، جو لمحہ خُدا نے مجھے اِس وقت دیا ہے یہ اُس کی طرف سے ایک انعام ہے۔
آج کا قوّی خیال: میں خُدا کے دیئے ہوئے ہر لمحہ سے لطف اندوز ہوں گا/گی۔