لیکن میرے نزدیک یہ نہایت خفیف بات ہے کہ تم یا کوئی انسانی عدالت مجھے پَرکھے بلکہ میں خود بھی اپنے آپ کو نہیں پرکھتا۔ 1 کرنتھیوں 4 : 3
پولس مسیح میں پُراعتماد تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وہ مسیح میں خُدا کے نزدیک مقبول ہے (دیکھیں رومیوں 5 : 19)، اُس نے خود کو قبول کرلیا تھا۔ وہ نہ خود اپنی عدالت کرتا تھا اور نہ دوسروں کی طرف سے کی گئی عدالت کو قبول کرتا تھا۔
سچائی کو جاننے سے پہلے پولس مسیحیوں کو ستاتا تھا۔ وہ کہتا ہے کہ اُسے ماضی سے چھٹکارا پانے اور کاملیت کی راہ پر آگے بڑھنے کے لئے کوشش کرنی پڑی۔ اس نے یہ بھی وضاحت کردی کہ وہ ہرگز یہ نہیں سوچتا کہ وہ کامل ہوچکا ہے (دیکھیں فلپیوں 3 : 12 ـ 14)۔ دوسرے الفاظ میں پولس نے کاملیت کا دعویٰ نہیں کیا لیکن وہ اپنے بارے میں بُری رائے بھی نہیں رکھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اُس نے خطائیں کی ہیں لیکن وہ ان خطاؤں کے سبب سے نہ تو خود کو رد کرتا تھا اور نہ ہی حقیر سمجھتا تھا۔
پولس نے جس قسم کے اعتماد کا اظہار کیا ہے وہ بڑی خلاصی کا باعث ہے، یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خُداوند یسوع موا تاکہ ہم آزاد ہوجائیں۔(دیکھیں یُوحنّا 8 : 36)
آج کا قوّی خیال: میں مسیح میں اپنی حیثیت کے باعث اِنسانی عدالت سے بَری ہوں۔