اپنے قوانین کی راہ مجھے سمجھا دے اور میں تیرے عجائب پر دھیان کروں گا۔ زبور 119 : 27
مرقس 4 : 24 میں بیان کیا گیا ہے کہ جتنا ہم کلام کے مطالعہ میں وقت صرف کرتے ہیں اتنا ہی علم اور خوبیاں ہمارے اندر پیدا ہوتی ہیں۔ انسان ہوتے ہوئے ہم سست پڑسکتے ہیں، اور کئی لوگ کچھ کئے بغیر کچھ حاصل کرنا چاہتے ہیں (وہ خود سے کوئی کوشش نہیں کرنا چاہتے)، بہر حال کلام کے مطابق ایسا نہیں ہو سکتا۔
اگر آپ وہ کرنا چاہتے ہیں جو خُدا کا کلام کہتا ہے اور اُس قوّت کو جو آپ کے لئے موجود ہے پورے طور پر حاصل کرنا چاہتے ہیں، تو آپ کو کلام کے مطالعہ کرنے، اس پر غور کرنے ، گیان دھیان کرنے اور اس پر سوچ بچار کرنے ، اس کے بارے میں بات کرنے اور اپنے خیالات میں اس کی مشق کرنے اور اسے دہرانے میں وقت صرف کرنا ہوگا۔
کیا آپ کو یہ پُرانی کہاوت یاد ہے؟ کہ "مشق مشاق بناتی ہے” ہم بغیر مطالعہ کے زندگی کے کسی بھی شعبہ میں عبور حاصل کرنے کی توقع نہیں کرسکتے، تو ہم یہ توقع کیوں کرتے ہیں مسیحی زندگی پر یہ اصول لاگو نہیں ہوگا؟
آج کا قوّی خیال: میں خُدا کے کلام کا مطالعہ کرتا/کرتی ہوں تاکہ خُدا کی راہوں کو جانوں۔