اَور اگر کوئی تم کو قبول نہ کرے اور تمہاری بات نہ سُنے تو اُس گھر یا اُس شہر سے باہر نکلتے وقت اپنے پاؤں کی (وہاں کی) گَرد جھاڑ دینا۔ متّی 10 : 1
خُداوند یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتایا کہ جب وہ رد کئے جائیں تو اُنہیں اس کا سامنا کس طرح سے کرنا چاہیے۔ اس نے ان کو بتایا کہ "اسے جھاڑ دینا” دراصل وہ کہہ رہا تھا کہ "کسی بات کی پرواہ نہ کرنا۔ جو کچھ میں نے تمہیں کرنے کے لئے بُلایا ہے اس کو پورا کرنے کے لئے ان باتوں کو اپنے راہ کی رکاوٹ نہ بننے دینا۔”
خُداوند یسوع مسیح کو بھی رد کئے جانے اور حقارت کا تجربہ کرنا پڑا (یسعیاہ 53 : 3)، تو بھی ایسا لگتا ہے کہ اس نے کبھی بھی اس کی پرواہ نہیں کی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ بھی اُسی طرح درد محسوس کرتا تھا جس طرح آپ اور میں اس وقت کرتے ہیں جب ہمیں رد کئے جانے کا تجربہ ہوتا ہے ، لیکن اس نے اس کو اپنے مقصد کو پورا کرنے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا۔
خُداوند یسوع نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ وہ رد کئے جانے کے بارے میں فکر مند نہ ہوں کیونکہ وہ لوگ جو اُنہیں رد کرتے ہیں دراصل وہ خُداوند یسوع کو رد کرتے ہیں (دیکھیں لُوقا 10 : 16)۔آپ لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں۔ آپ ان کی سوچوں کو کنٹرول نہیں کرسکتے، اس لئے اُنہیں اور اُن کی رائے کو خُدا کے ہاتھ میں چھوڑ دیں اور خُدا کی مرضی کو پورا کرنے کی طرف دھیان دیں۔
آج کا قوّی خیال: میں رد کئے جانے کی پرواہ نہیں کرتا/کرتی کیونکہ مجھے صرف خُدا کی خوشنودی کی پرواہ ہے اور وہ مجھے حاصل ہے۔