PT-217 نمونہ بنیں

لیکن میں نے تم کو درحقیقت یہ لکھا تھا کہ اگر کوئی بھائی (مسیحی) کہلا کرحرام کار یا لالچی یا بُت پرست (جس کی زندگی کسی بھی ایسی ہستی کے لئے مخصوص ہو جو خُدا کی جگہ لے لے) یا گالی دینے والا (بہتان، تہمت لگانے والا، بدگو،طعنہ زنی کرنے والا) یا شرابی یا ظالم ہو تو اُس سے صُحبت نہ (نہیں) رکھنا بلکہ ایسے کے ساتھ کھانا تک نہ کھانا۔                    1 کرنتھیوں 5 : 11

پولس رسول نے کرنتھس کے لوگوں کو بتایا کہ وہ ایسے اِیماندار کے ساتھ تعلق نہ رکھیں جس کی زبان ناپاک ہے، یعنی جو عیب جوئی کرتا ہے، تنقید کرتا ہے۔ گناہ میں زندگی بسر کرنے والوں کے سامنے اچھّا نمونہ پیش کرنے کے لئے آپ کو محتاط ہونے کی ضرورت ہے اور نہ تو ان جیسے غلط کام کرنے ہیں اور نہ ہی اُن جیسی تکلیف پہنچانے والی گفتگو کرنی ہے۔ یقیناً آپ کو ایسا تاثر نہیں دینا کہ جیسے آپ کے خیال میں آپ ان سے بہتر ہیں لیکن آپ کو مُحبّت ، حلیمی اور مہربانی سے ایسی گفتگو اور رویوں میں شامل ہونے سے انکار کرنا ہے جن کے بارے میں آپ جانتے ہیں کہ وہ خُدا کو پسند نہیں ہیں۔

کسی کو اجازت نہ دیں کہ وہ اپنے بُرے روّیے اور بُری گفتگو میں شامل کرکے آپ کو اُس سے آلودہ کرے بلکہ اس کی بجائے آپ کا فیصلہ یہ ہونا چاہیے کہ آپ اپنے اچھّے نمونہ سے اُن کو متاثر کریں گے۔

 

آج کا قوّی خیال: نہ تو میں عیب جوئی کروں گا/گی، نہ تنقید اور نہ ہی دوسروں کے بارے میں افوائیں پھیلاؤں گا/گی۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon