میں تیرے قوانین پر غور کروں گا اور تیری راہوں کا لحاظ رکھوں گ ا(زندگی کی راہوں کا جن کی نشاندہی خُدا کے قوانین کرتے ہیں)۔ زبور 119 : 15
خُدا کا کلام ہمیں سیکھاتا ہے کہ ہمیں کن سوچوں میں اپنا وقت گزارنا ہے۔ زبور نویس کہتا ہے کہ وہ خُدا کے "قوانین” پر دھیان کرتا یا غور وغوص کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے وہ بہت سا وقت خُا کی راہوں ،اس کی ہدایات، اُس کی تعلیمات کے بارے میں سوچنے یا خیال کرنے میں گزارتا ہے۔ زبور 1 : 3 میں بیان کیا گیا ہے کہ وہ شخص جو ایسا کرتا ہے وہ "اُس درخت کی مانند ہے جو پانی کی ندیوں (سے سیر ہوتا ہے) کے پاس لگایا گیا ہے۔ جو اپنے وقت پر پھلتا ہے اور جس کا پتا بھی نہیں مرجھاتا۔ سو جو کچھ وہ کرے بارور ہوگا (وہ بڑھے گا)۔”
خُدا کے کلام کے بارے میں سوچنا بہت فائدہ مند ہے کیونکہ یہ اُس کی مرضی کو اور اُن عظیم منصوبوں کو ظاہر کرتا ہے جو خُدا اپنے فرزندوں کے لئے رکھتا ہے۔ جتنا وقت آپ خُدا کے کلام پر غور کرنے میں صرف کریں گے، اتنا ہی آپ کی خوشی بڑھتی جائے گی اور آپ اچھّا پھل پیدا کریں گے۔
آج کا قوّی خیال: میں ہمیشہ خُدا کے کلام اور اس کے قوانین پر غور کروں گا/گی۔