جو کوئی خُدا سے پیدا (جنم) ہوا ہے وہ (جان بوجھ کر، جانتے ہوئے اور عادتاً) گناہ نہیں کرتا کیونکہ اُس کا تخم اُس میں بنا رہتا ہے (زندگی کے اُن اصولوں پر جو اُس نے بنائے ہیں، الہیٰ تخم، اس میں ہمیشہ کے لئے قائم رہنا) بلکہ وہ گناہ کر ہی نہیں سکتا کیونکہ خُدا سے پیدا (جنم) ہوا ہے۔ 1 یُوحنّا 3 : 9
اس حوالہ کے مطابق جب ہم نئے سرے سے پیدا ہوتے ہیں تو ہم جان بوجھ کر، مرضی سے اور سرہیاً گناہ نہیں کر سکتے۔ تو بھی پولس رومیوں 7 : 15 میں کہتا ہے کہ "اور جو میں کرتا ہوں اُس کو نہیں جانتا کیونکہ جس کا میں اِرادہ کرتا ہوں وہ نہیں کرتا بلکہ جس سے مجھ کو نفرت ہے وہی کرتا ہوں۔” ہم سب کی طرح پولس بھی اُس معموری میں جو مسیح میں ہماری میراث ہے ترقّی کر رہا تھا۔
جب ہم کلام میں پڑھتے ہیں کہ ہمارے اندر مسیح کی عقل ہے تو یہ بات ہمیں حیران کردیتی ہے (دیکھیں 1 کرنتھیوں 2 : 16) اور یہ رُوح کا پھل بھی ہے (دیکھیں گلتیوں 5 : 22 – 23) لیکن ہم ان کو اپنی زندگی میں نہیں دیکھتے۔ یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ مسیح کی عقل ہونے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ خود بخود مسیح کی مانند سوچنے کے قابل ہو جائیں گے اور خُدا کی مُحبّت، خوشی اور اطمینان کا تخم آپ کے اندر ہونے کا بھی یہ مطلب نہیں کہ یہ خود بخود آپ کے اندر کام کرنا شروع کردیں گے۔
جب کوئی خاتون حاملہ ہوتی ہے، کسی کو پتہ نہیں چلتا کہ وہ حاملہ ہوچکی ہے کیونکہ اُس کے اندر اُس تخم کا بڑھنا ابھی باقی ہے۔ اِسی طرح جب خُدا ہمارے اندر اپنی فطرت ڈالتا ہے یا اپنی ساری ہستی کا تخم، تو ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں اسے پورے طور پر اَثر انداز ہوتا ہوئے دیکھنے سے پہلے اُسے بڑھنے کا موقع دیں۔ صبر رکھیں، خُدا آپ کی زندگی میں کام کررہا ہے۔
آج کا قوّی خیال: میرے اندر خُدا کی فطرت بڑھ رہی ہے۔