آدمی کا پیٹ اُس کے منہ (اخلاق) کے پھل سے بھرتا ہے اور وہ اپنے لبوں کی (اچھّی یا بُری) پیداوار سے سیر ہوتا ہے۔ امثال 18 : 20
جب ہم اچھّی نیت سے گفتگو کرتے ہیں تو وہ باتیں شاندار ہوتی ہیں۔ اِن سے حوصلہ، ترقّی اور اعتماد حاصل ہوتا ہے۔ جب ہم الفاظ کی قوّت کو سمجھ لیں گے اور یہ کہ ہماری سوچیں اور الفاظ ہمارے اختیار میں ہیں تو ہماری زندگیاں بدل جائیں گی۔ ہمارے الفاظ ہم پر حاوی نہیں ہوسکتے ـــــ یہ ہمارے ذہن میں تشکیل پاتے ہیں اور پھر ہم انہیں کو استعمال کرتے ہیں۔ ہم اپنی سوچوں کا انتخاب کرسکتے ہیں، بُری سوچوں کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور اچھّی،صحت مند اور درست سوچوں کو اپنا سکتے ہیں۔
جب آپ صبح اُٹھیں، اور آپ کو یاد آئے کہ آپ نے کوئی ضروری کام کرنا ہے لیکن آپ اس کو کرنے کے لئے تیار نہ ہوں تو شاید آپ کہیں گے کہ "مجھے آج ڈر لگ رہا ہے،” لیکن اس کی بجائے آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ "خُدا آج مجھے زور دے گا تاکہ جو کام ضروری ہے وہ کروں اور خوشی سے کروں۔”
آج کا قوّی خیال: خُدا کی مدد سے میں ٹھیک بات کرنے کا فیصلہ کرتا/کرتی ہوں تاکہ میری خوشی بڑھ جائے۔