PT-231 بتائیں کہ آپ بامقصد کیا کہتے ہیں

موت اور زندگی زبان کے قابو میں ہیں اور جو اُسے دوست رکھتے ہیں اُس کا پھل (زندگی یا موت کا) کھاتے ہیں۔                             امثال 18 : 21

میں پُرزور نصیحت کرتی ہوں کہ خُدا کے کلام کا بآوازِ بُلند اِقرار کیا جائے۔ عین ممکن ہے کہ آپ جو اِقرار کریں وہ آپ کے احساسات کے متضاد ہو، تو بھی اِقرار کرنا جاری رکھیں؛ خُدا کے کلام میں آپ کے احساسات کو تبدیل کرنے کی قوّت ہے۔ خُدا کا کلام تسلّی بخشتا ہے ہمیں اور ہمارے پریشان جذبات کو خاموش کرتا ہے۔

بولنے کا ایک وقت ہے اور خاموش رہنے کا ایک وقت ہے۔ بعض اوقات سب سے بہتر یہی ہوتا ہے کہ ہم خاموش رہیں۔ بامقصد گفتگو کرنا اور بات کرنے سے پہلے سوچنا حکمت کی بات ہے۔ اگر ہم واقعی اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ الفاظ میں زندگی اور موت ہے تو پھر ہم کیوں احتیاط سے اپنے الفاظ کے چناؤ کا فیصلہ نہیں کرتے؟

 

آج کا قوّی خیال: میں احتیاط سے اپنے الفاظ کا چناؤ کرتا/کرتی ہوں؛ میں زندگی سے معمور الفاظ کا چناؤ کرتا/کرتی ہوں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon