PT-236 غُصّہ تو کرو مگر گُناہ نہ کرو

غُصہ تو کرو مگر گناہ نہ کرو۔ سورج کے ڈوبنے تک تمہاری خفگی (تمھارا برہم، تمھارا قہر یا تمھاری خفگی) نہ رہے۔                      افسیوں 4 : 26

اِیماندار شخص ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کے اندر منفی یا غیر الہیٰ خیالات کبھی پیدا نہیں ہوں گے۔ ہمیں باطن میں ایسے جذبات کا سامنا کرنا پڑے گا جن کے ساتھ ہمیں نمٹنے کی ضرورت ہے، لیکن ہم ہمیشہ خُدا پر اپنے اِیمان کو استعمال کر سکتے ہیں اور اس سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ ہماری مدد کرے۔ سچائی یہ ہے کہ ہم اپنے جذبات سے بالاتر ہو کر زندگی بسر کرسکتے ہیں اگر ہم انہیں خود پر حاوی ہونے کی اجازت نہ دیں۔

میرا یقین ہے کہ جو کچھ ہم محسوس کرتے ہیں وہ اس وقت تک گناہ نہیں ہے جب تک کہ ہم خُدا سے اس کے بارے میں بات کرتے ہیں اور اس کے زور پر تکیہ کرتے ہیں، اور اپنے احساسات کے بجائے اس کے کلام پر عمل کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں۔ بائبل مُقّدس فرماتی ہے کہ غُصّہ تو کرو مگر گناہ نہ کرو (دیکھیں افسیوں 4 : 26)۔ اس کے اصل معنی یہ ہیں کہ آپ کسی ناانصافی کے باعث غصہ محسوس کرسکتے ہیں لیکن اگر آپ اس کے ساتھ درست طریقہ سے نمٹتے ہیں تو یہ گناہ کی شکل اختیار نہیں کرے گا۔

 

آج کا قوّی خیال: خُدا کی حکمت اور زور کے ساتھ، میں غصہ کے ساتھ درست طریقہ سے نمٹ سکتا/سکتی ہوں تاکہ میں گناہ نہ کروں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon