اَے خُداوند! مبارک (شادمان، خوش قسمت اور قابلِ رشک) ہے وہ آدمی جسے تو تنبیہ کرتا اور اپنی شریعت کی تعلیم دیتا ہے۔ تاکہ اُس کو مصیبت کے دِنوں میں آرام بخشے۔ جب تک شریر کے لئے گڑھا نہ کھودا جائے۔ زبور 94 : 12 – 13
خروج 13 : 17 کے مطابق "اور جب فرعون نے ان لوگوں کو جانے کی اجازت دے دی تو خُدا اُن کو فلستیوں کے ملک کے راستہ سے نہیں لے گیا اگرچہ اُدھر سے نزدیک پڑتا۔” اگرچہ چھوٹا راستہ بھی موجود تھا ، تو بھی خُدا ارادتاً بنی اسرائیلیوں کو ایک لمبے اور مشکل راستہ سے لے کر گیا کیونکہ وہ ان لڑائیوں کے لئے تیار نہیں تھے جن کا اُن کو مقابلہ کرنا تھا۔ اور اس چالیس سال کی آوارگی میں خُدا ان کی زندگیوں میں مسلسل کام کررہا تھا، اور منتظر تھا کہ وہ اس مقام تک پہنچ جائیں جہاں وہ اپنی مصیبت میں بھی اُس کی پرستش کرسکیں۔
خدا اس وقت تک ہماری زندگیوں میں کام کرتا رہے گا جب تک ہم طوفانوں میں بھی پُرسکون رہنا نہیں سیکھ لیتے۔ وہ چیز جو ہماری روحانی بلوغت کو سب سے زیادہ ظاہر کرتی ہے وہ یہ ہے کہ ہم حالات کے باوجود پُرسکون رہیں۔ استحکام بلوغت کا نشان ہے اور ہم جتنے بالغ ہوتے جائیں گے اتنا ہی خُدا ہمیں اپنی قوّت اور برکات بخشے گا۔