پس جب کہ مسیح نے جسم کے اعتبار سے دُکھ اُٹھایا تو تم بھی ایسا ہی مزاج (خدا کو خوش کرنے میں ناکام ہونے سے بہتر ہے کہ صبر سے دکھ سہیں) اختیار کرکے ہتھیار بند بنو کیونکہ جس نے جسم کے اعتبار سے دکھ اُٹھایا (مسیح کی عقل رکھتے ہوئے) اس نے (جان بوجھ کر کرنے والے) گناہ سے فراغت پائی (اپنے آپ اور دُنیا کو خوش کرنے سے باز آنا اور خدا کو خوش کرنا)۔ 1 پطرس 4 :1
خُدا کو خوش کرنے کا اِرادہ کرلیں، چاہے اس کے لئے آپ کو دُکھ ہی کیوں نہ سہنا پڑے۔ دوسرے الفاظ میں مسیح کی عقل کے ساتھ جینا سیکھیں، جو آپ کے لئے دُکھ سہنے کے لئے تیار ہوگیا ۔ جسم میں دُکھ سہنے کا مطلب ہے کہ ہمارا جسم ان سب باتوں کو پسند نہیں کرے گا جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑے گا، لیکن آپ وہ سب کرنے کا ارادہ کرلیں جو خُدا آپ سے کہے۔ اگر آپ ارادہ کر لیں گے اور ثابت قدم رہیں گے تو آپ جسم کے مطابق زندگی بسر نہیں کریں گے، یعنی جان بوجھ کر گناہ نہیں کریں گے بلکہ آپ خُدا کی مرضی کے مطابق زندگی بسر کریں گے اور اپنی زندگی میں اُس کی راستبازی، اطمینان ،خوشی اور فتح کا تجربہ کریں گے۔
آج کا قوّی خیال: جس نے میرے لئے دُکھ سہا میں اُس کو خوش کرنے کے لئے زندگی بسر کرتا/کرتی ہوں۔