جب اُس نے دیکھا کہ وہ اُس پر غالب نہیں ہوتا تو اُس کی ران کو اندر کی طرف سے چھوا اور یعقوب کی ران اُس کے ساتھ کُشتی کرنے میں چڑھ گئی۔اور اُس نے کہا مجھے جانے دے کیونکہ پو پھٹ گئی” یعقوب نے کہا "جب تک تو مجھے برکت نہ دے میں تجھے جانے نہ دوں گا پیدایش 32 : 25 – 26
یعقوب ایک دھوکے باز، جھوٹا اور منافق تھا لیکن وہ خُدا اور اپنے بھائی کے ساتھ اپنے تعلقات کو درست کرنا چاہتا تھا۔ اُس نےعسیو سے پہلوٹھے ہونے کا حق چھینا تھا ــــ اور بلاشبہ اس کے اندر یہ اعتماد پایا جاتا تھا کہ وہ خُدا کے ساتھ کُشتی کرسکتا ہے جب تک کہ اسے برکت نہیں مل جاتی۔ یہ ہم میں سے ان لوگوں کے لئے بڑی چونکا دینے والی بات ہے کہ جو دُعا یا خُدا کے ساتھ اپنے تعلق میں دلیر نہیں ہیں۔ لیکن یہ بات بہت واضح ہے، اور خُدا کے کلام میں قلم بند کی گئی ہے ــــ یعقوب کے اعتماد اور دلیری نے اُسے خُدا کے ساتھ کُشتی کے لئے تیار کیا اور خُدا نے اُس کے اِس اعتماد کو پسند کیا!
افسیوں 3 : 12 میں مرقوم ہے کہ "جس میں ہم کو اُس پر اِیمان رکھنے کے سبب سے دلیری ہے اور بھروسے کے ساتھ رسائی۔”
یاد رکھیں کہ آپ کا اعتماد خود پر نہیں ہے ــــ بلکہ مسیح پر ہے۔
آج کا قوّی خیال: مسیح کے وسیلہ سے اور اُس پر اِیمان کے وسیلہ سے، میں دلیری، اعتماد اور آزادی سے اُس کی حضوری میں آسکتا/سکتی ہوں۔