کیونکہ خُدا کا کلام زِندہ اور مُؤثِر اور ہر ایک دو دھاری تلوار سے زِیادہ تیز ہے اور جان اور رُوح اور بند بند اور گُودے کو جُدا کرکے گُزر جاتا ہے اور دِل کے خیالوں اور اِرادوں کو جانچتا ہے۔ عبرانیوں 4 : 12
دوسرا کرنتھیوں 10 : 4 – 5 میں ہمیں سیکھایا گیا ہے کہ ہمیں ایسے تصورات، خیالات، ہوشیاری اور نظریات کو جو خُدا کی پہچان کے خلاف ہیں گرانے کے لئے جسمانی نہیں رُوحانی ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔ جب ہم خُدا کے کلام کو اپنی زبان سے اَدا کرتے ہیں تو یہ دو دھاری تلوار کی مانند بن جاتا ہے ـــــ ایک دھار سے دشمن کو شکست دینا اور دوسری دھار سے آسمانی برکات کو حاصل کرنا۔ اور بھی بہت سے ہتھیار ایسے ہیں جو حفاظت کی غرض سے بنائے جاتے ہیں تاکہ ہمیں حملہ سے محفوظ رکھیں لیکن کلام حملہ کرنے کے لئے دیا گیا ہے ــــ یہ دشمن کو شکست دیتا ہے۔
خُدا کے کلام کے دوسرے اصولوں کی طرح یہ اصول بھی اُس وقت تک کام نہیں کرتا جب تک اس پر عمل نہ کیا جائے۔ اِس سچائی کو جان لینا تبدیلی کے لئے کافی نہیں ہے۔ ہمارا اِیمان جارحانہ ہونا چاہیے۔ اُسے جاری کرنا چاہیے۔ ہم دُعا، اُس کے کلام کے بآوازِ بُلند اِقرار اور خُدا کی مرضی کے مطابق عمل کرنے سے خُدا کے کلام کو جاری کرسکتے ہیں۔
آج کا قوّی خیال: میں جنگ کے لئے دو دھاری تلوار سے لیس ہوں ــــ یعنی خُدا کے کلام سے۔