PT-311 موافقت اور سمجھوتہ کرنا سیکھیں

آپس میں یک دِل رہو۔ اُونچے اُونچے خیال ( مغرور،بلندی نظر،علیحدہ ) نہ باندھو بلکہ اَدنیٰ لوگ کی طرف مُتوجِّہ (لوگوں اور چیزوں) ہو۔ اپنے آپ کو آپ کو عقل مند نہ سمجھو۔                    رُومیوں 12 : 16

اگر ہم لوگوں اور حالات کے ساتھ موافقت یا سمجھوتہ کرنا نہیں سیکھیں گے، تو ہم زندگی میں پیدا ہونے والے تناؤ سے ٹوٹ جائیں گے۔ ایسا کرنے کے لئے فروتنی ، خُدا پر بھروسہ، اور مضبوط اِرادہ چاہیے تاکہ صُلح و سلامتی کو برقرار رکھا جاسکے۔

ایک شخص جو 114 سال کی عمر کا تھا اُس نے لمبی عمر پانے کے لئے ایک مشورہ دیا: "تبدیلی کو قبول کریں، چاہے یہ آپ کے منہ پر طمانچہ کی طرح ہی کیوں نہ ہو۔” ہم زندگی میں آنے والی ہر تبدیلی کو دعوت نہیں دیتے لیکن اگر ہم ان سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے، تو ہمیں اِن کو قبول کرلینا چاہیے۔

اگر آپ کو ایسے حالات کا سامنا ہے جو آپ کے منصوبہ کا حصّہ نہیں تھے یا جن کو آپ نے دعوت نہیں دی تھی، تو خود سے سوال کریں کہ کیا آپ ان کو تبدیل کر سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے، تو انہیں قبول کریں ، خُدا سے دُعا کریں کہ وہی اِن سے نپٹنے میں آپ کی مدد کرے، اِن سے سیکھیں اور آگے بڑھیں۔

 

آج کا قوّی خیال: خُدا نے مجھے صلاحیت دی ہے تاکہ اِنسانوں اور حالات کے ساتھ سمجھوتہ کروں اور پُرسکون رہوں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon