PT-322 خود سے بات کریں

بلکہ رُوح سے معمُور ہوتے جاؤ۔اور آپس میں مزامِیر اور گِیت اور رُوحانی غزلیں گایا کرو اور دِل سے خُداوند کے لِئے گاتے بجاتے رہا کرو۔                          افسیوں 5 : 18 – 19

اگر آپ اپنے جذبات کے کنٹرول میں ہیں تو اس سے باہر نکلنے کا ایک راستہ یہ ہے کہ خود سے بات کریں۔ آپ کی باتیں آپ کو جذبات کے قابو میں کردیتی ہیں جیسا کہ غُصہ، اور حسد، اور اپنی گفتگو ہی کے وسیلہ سے آپ اس کے کنٹرول سے باہر بھی آ سکتے ہیں۔

مثال کے طور، جب کوئی شخص آپ کے ساتھ بُرا سلوک کرتا ہے تو آپ اپنی گفتگو سے خود کو غُصہ دلا سکتے ہیں آپ اِس برائی پر غور کرنے سے، اِس کے بارے میں سوچنے سے اور دوسروں کو اِس کے بارے میں بتانے سے غُصہ سے بھر سکتے ہیں۔ لیکن آپ اپنی گفتگو سے اس غُصہ سے باہر بھی آسکتے ہیں ــــ کرنا بس یہ ہے کہ جو چیز آپ کو پریشان کرتی ہے کچھ لمحات کے لئے اِس سے دور ہوجائیں اور خود سے مختلف انداز سے بات کریں: اَے میری جان ذرا آرام کر۔ ابلیس کے لئے دروازہ مت کھول۔ غُصہ نہ کر، آپے سے باہر نہ ہو اور ایسی بہت سی باتیں کہیں جو بعد میں آپ کے لئے پچھتاوے کا سبب بن سکتی ہیں۔

یاد رکھیں، اِبلیس وہ دشمن ہے ـــــ جو آپ کے غُصہ کا سبب ہے ــــ اِنسان اِس کا سبب نہیں ہیں (دیکھیں افسیوں 6 : 12)

 

آج کا قوّی خیال: میں خود سے بڑے تحمل اور مثبت طریقہ سے بات کرکے اپنے غُصہ پر قابو پا سکتا/سکتی ہوں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon