PT-330 شُکر گزاری کے ساتھ

شُکر گزاری کرتے ہوئے اُس کے پھاٹکوں میں اور حمد کرتے ہوئے اُس کی بارگاہوں میں داخل ہو اُس کا شُکر کرو اور اُس کے نام کو مبارک کہو۔                       زبور 100 : 4

خُدا کا کلام ہمیں سیکھاتا ہے کہ ہم فکر نہ کریں بلکہ ہر قسم کے حالات میں شُکر گزاری کے ساتھ اُس کے پاس آئیں (دیکھیں فلپیوں 4 : 6)۔ زبور 100 : 4 میں بیان کیا گیا ہے کہ ہم اس وقت خُدا کی حضوری میں داخل نہیں ہوسکتے جب تک ہم شُکر گزاری نہیں کرتے۔

اگر ہم شکایت کرنے کی بجائے شُکر گزاری کے ساتھ اپنی دُعائیں خُدا کے حضور میں پیش کرتے ہیں تو ہمیں یقین دہانی ہونی چاہیے کہ ہماری دُعائیں سُنی گئیں ہیں۔ جو لوگ شکایت کرتے ہیں وہ اپنے رویے اور الفاظ سے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ خُدا پر بھروسہ نہیں کرتے اور وہ شُکرگزار اور قدر دان نہیں ہیں۔ شاید آپ خُدا سے حقیقی مُحبّت کرنے والے شخص ہیں لیکن آپ کو شکایت کرنے کی عادت ہے اور اب تک شاید آپ نے یہ نہیں جانا کہ یہ خُدا کے نزدیک کس قدر ہتک آمیز رویہ ہے۔ اگر آپ اس سلسلہ میں گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں تو اس کی کوئی سزا تو نہیں ہے لیکن آپ کو خُدا سے معافی مانگنی چاہیے اور دُعا کرنی چاہیے کہ وہ آپ کی دُعاؤں کو حمد اور شُکرگزاری سے معمور کردے۔

 

آج کا قوّی خیال: میری دُعاؤں میں احسان مندی اور شُکرگزاری ہوتی ہے۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon