آدمی کی تمِیز اُس کو قہر کرنے میں دِھیما بناتی ہے۔ اور خطا سے درگُذر کرنے میں اُس کی شان ہے۔ امثال 19 :11
لوگ اکثر مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ "میں قناعت اور استحکام کیسے سیکھوں؟” ایک ہی طریقہ ہے جو بائبل مُقّدس میں صف صاف بیان کیا گیا ہے ، وہ ہے صبر۔
خُدا چاہتا ہے کہ ہم حکمت سے کام کریں اور حکمت ہمیں صبر کرنا سیکھاتی ہے۔ حکمت چپکے سے بتاتی ہے کہ کچھ کرنے یا کہنے سے پہلے تھوڑی دیر اور صبر کریں، جب تک کہ جذبات ٹھنڈنے نہ ہوجائیں۔ جانچ پڑتال کرلیں کہ جو کچھ آپ کرنا چاہ رہے ہیں وہ درست ہے یا نہیں۔ جذبات ہمیں جلد بازی کی طرف مائل کرتے ہیں، ہمیں کچھ کرنے پر مجبور کرتے ہیں تاکہ ہم کچھ کریں اور فوراً کریں! لیکن الہیٰ حکمت ہماری راہنمائی کرتی ہے کہ ہم اس وقت تک صبر کریں اور ٹھہرے رہیں جب تک ہمارے سامنے کوئی واضح حکمتِ عملی نہیں ہوتی کہ کیا کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ میں اس کو یوں بیان کرنا پسند کرتی ہوں: سب سے پہلے جذبات کو ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر فیصلہ کریں۔ ہمیں معاملات سے پیچھے قدم ہٹانے کی ضرورت ہے اور خُدا کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ پھر ہمیں احساسات کی بنیاد پر نہیں بلکہ جانکاری کی بنیاد پر فیصلے کرنے ہیں۔
آج کا قوّی خیال: میرے اندر حکمت ہے کہ اپنے اندر صبر اور جذباتی استحکام پیدا کروں۔