کِسی بات کی فِکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تُمہاری درخواستیں دُعا اور مِنّت کے وسِیلہ سے شُکرگُذاری کے ساتھ خُدا کے سامنے پیش کی جائیں۔ فلپیوں 4 : 6
فکر کر کے آپ نے کتنے مسائل حل کر لئے ہیں؟ کئی معاملات میں آپ نے بہت سا وقت فکر کرنے میں گزار دیا تو بھی وہ حل نہ ہوئے؟ کیا کوئی معاملہ فکر کرنے سے بہتر ہوا ہے؟ بلاشبہ نہیں!
جس لمحہ فکر آپ کو آ دبائے یا آپ پریشانی محسوس کریں، اُسی وقت اُس فکر کو دُعا میں خُدا کے سپُرد کردیں۔اس کا سارا بوجھ اُتار دیں اور مکمل طور پر اس پر بھروسہ کریں تاکہ یا تو وہ آپ پر ظاہر کرے کہ کیا کرنا ہے یا وہ خود اس سارے معاملہ کو سنبھال لے۔
دُعا کامیاب زندگی کی واضع نشان دہی ہے۔ زمین پر اپنی زندگی کے دوران، خُداوند یسوع نے دُعا کی۔ اُس نے سب کچھ خُدا کے سُپرد کردیا ـــــ یہاں تک کہ اپنی ساکھ اور زندگی بھی۔ ہم بھی ایسا ہی کرسکتے ہیں۔ خُدا کے ساتھ گفتگو کا معاملہ پیچیدہ نہیں ہے۔ اس پر بھروسہ کریں اور سادہ پُر اعتماد دُعا کے ساتھ اس کو اپنی ضرورت بتائیں۔
آج کا قوّی خیال: فکر سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ میں خُداوند پر بھروسہ کرتا/کرتی ہوں۔