آدمی کے کلام کا پَھل اُس کو نیکی سے آسُودہ کرے۔ اِمثال 12 : 14
مجھے یقین ہے کہ آپ نے کسی کو یہ کہتے ہوئے ضرور سُنا ہو گا، "تم ان باتوں کا پھل کھاؤ گے۔” شاید ہمارے نزدیک یہ محض ایک مقولہ ہو لیکن جیسا کہ مندرجہ بالا حوالہ میں تصدیق کی گئی ہے کہ ہم اپنے منہ کے کلام سے آسودہ ہوتے ہیں!
جو کچھ آپ کہتے ہیں وہ نہ صرف آپ کو متاثر کرتا ہے بلکہ یہ دوسروں پر بھی اَثر انداز ہوتا ہے۔ وہ الفاظ جو آپ کے منہ سے نکلتے ہیں وہ آپ کے کانوں تک پہنچتے ہیں اور دوسرے لوگوں کے کانوں تک بھی اور پھر یہ آپ کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں جہاں ان سے یا تو آپ کو شادمانی یا اُداسی، اطمینان یا پریشانی ہوتی ہے،انحصار اس بات پر ہے کہ آپ نے کس قسم کے الفاظ کہے ہیں۔
آپ بُرے خیالات کا مقابلہ کریں کیونکہ ان ہی سے غلط گفتگو شروع ہوتی ہےاور اچھّی اور صحت مند باتوں پر غور کریں جو آپ کی زندگی میں اچھّا پھل پیدا کریں گی۔ میں ہمیشہ کہتی ہوں، "انسان اپنے خیالات کی پیروی میں چلتا ہے۔” آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ "ہم ویسی ہی گفتگو کرتے ہیں جیسے ہمارے خیال ہوتے ہیں!”
آج کا قوّی خیال: میں اپنی باتوں کے پھل سے آسودہ ہوں گا/گی، سو میں اچھّے الفاظ کا چناؤ کروں گا/گی جن سے میری زندگی میں اطمینان ہوگا۔