پس میں چاہتا ہوں کہ تم یہ کرو: اپنی ہر روز کی عام زندگی ـــــ سونا، کھانا، کام کرنا، زندگی گزارنا ـــــ کو قربانی کے طور پر خُدا کی نذر کرو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔ رومیوں 12 : 1
زندگی میں ہر روز بہت سی چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن سے ہم لطف اندوز ہو سکتے ہیں اگر ہم ان سے لطف اندوز ہونے کا فیصلہ کرلیں۔ جیسا کہ لباس زیب تن کرنا، کام پر جانا، گھر کے سودا سلف کی خریداری، مخلتف کام سرانجام دینا، چیزوں کو ترتیب سے رکھنا اور سینکڑوں اور کام۔ آخر کار انہی سب کاموں پر زندگی کا انحصار ہے۔ ان سب کاموں کو خُدا کی مُحبّت میں کرنا شروع کردیں اور جان لیں کہ پاک رُوح کے وسیلہ سے آپ ہر کام سے خوب لطف اندوز ہوسکتے ہیں۔ خوشی صرف تفریح سے نہیں آتی بلکہ یہ فیصلہ کرنے سے کہ آپ ہر لمحہ سے جو آپ کو دیا گیا ہے محظوظ ہوں گےاور یہ خُدا کی طرف سے بیش قیمت انعام ہے۔
آج کا قوّی خیال: میں اپنی زندگی میں ہر روز کے عام پہلوں سے لطف اندوز ہوتا/ہوتی ہوں۔