بِدی سے مغلوب نہ ہو بلکہ نیکی کے ذریعہ سے بَدی پر غالب (فتح مند ہو) آؤ۔ رومیوں 12 : 21
عادت کا مطلب ہے کسی کام کو بار بار کرنا یعنی کوئی کام اتنی کثرت سے کیا جائے کہ آخر کار ہم اُسے لاشعوری طور پر یا تھوڑی سی کوشش سے کرنے کے قابل ہوجائیں۔ جب کسی شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ فلاں کام ہمیشہ کرتا رہتا ہے تو ہم اس شخص کو "اس کام کا عادی” کہتے ہیں۔ یہ کہہ کر خود کو دھوکا نہ دیں کہ فلاں کام میرے بس میں نہیں ہے کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ چاہیں تو کسی بھی کام کو کرنے یا کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔
کسی بھی اچھّی عادت کا اپنانے یا بُری عادت کو توڑنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ جو آپ کرنا چاہتے ہیں اس پر غور کریں نہ کہ اس بات پر کہ آپ کس عادت کو ختم کرنا چاہتے۔ مثال کے طور پر اگر آپ بہت زیادہ کھاتے ہیں اور متوازن، صحت مند کھانے کی عادات کو اپنانا چاہتے ہیں تو ایسی کھانے کی کتابیں نہ پڑھیں جس میں لذیذ کھانوں کی خوبصورت تصاویر کی بھرمار ہو بلکہ اس کی بجائے ایسی اچھّی کتاب پڑھیں جس میں غذایت کے بارے میں بتایا گیا ہو اور جس سے آپ سیکھ سکیں کہ آپ کے لئے کون کون سے کھانے بہتر ہیں۔
اپنی سوچ کو غلط سمت میں نہ لے جائیں اس طرح آپ خود کو پہلے ہی سے شکست خوردہ کر لیں گے۔ جو کچھ آپ چاہتے ہیں ان باتوں کی طرف اپنی سوچوں کو لگائیں تاکہ اور پھر ہی آپ اپنے مقصد کو حاصل کرپائیں گے۔
آج کا مضبوط خیال: میں اپنی بُری عادات کو اچھّی عادات کو اپنانے اور ان پر توجہ کرنے سے چھوڑ سکتا/سکتی ہوں۔