الہیٰ نیت و خیالات

الہیٰ نیت و خیالات

اَے خدا تو مجھے جانچ(پورے طور پر) اور میرے دل کو پہچان، مجھے آزمااور میرے خیالوں کو جان لے۔ زبور ۱۳۹ : ۲۳

بہت سال پہلے جب ہم شدید معاشی مسائل سے دوچار تھےاُس وقت میں کسی بڑے معجزے کی منتظرتھی اورجب ایسا نہیں ہوا تو میں اُکتا گئی اور خدا کے سامنے چِلا اُٹھی اورکچھ عرصہ تک چلاتی رہی لیکن پھر خدا کے فضل سے میں نے ایک فیصلہ اوراِقرارکیا کہ :’’اَے خدا مجھے کوئی اُمیدنظر آئے یا نہ لیکن میں اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک دہ یکی اور ہدیہ دیتی رہوں گی!‘‘

اور مجھے پورایقین ہے کہ یہی وہ وقت تھا جب مجھے اپنے اندرجھانکنے اور اپنے دل کو جانچنے کا موقع ملا تاکہ خدا کودینے کے پیچھے اپنی نیت کو پرکھ سکوں۔ خدا میری نیت کو مجھ پر ظاہر کرنا چاہتا تھا تاکہ میں یہ جان سکوں کہ کیا میں صرف خدا سے کچھ حاصل کرنے کی نیت سے ہدیہ جات دیتی ہوں یعنیٰ کہیں میرے دینے کی وجہ خودغرضی اور لالچ پر مبنی تو نہیں۔

اِس موضوع پر بہت کلام سُنایا جا رہا ہے اورمنادی بھی کی جارہی ہے اور یہ سکھایا جا رہا ہے کہ جتنا ہم دیں گے ہمیں اتنی ہی برکت ملے گی۔ لیکن ہمارے دل میں پاکیزگی (درست نیت)ہونی چاہیے تاکہ ہم سیدھے راستہ پر چلیں اور جو بھی کریں خدا کو جلال دینے کے لئے کریں، آپ کا اس کےبارے میں کیا خیال ہے؟

میں آپ کو اُبھارنا چاہتی ہوں کہ دیانتداری سے اپنے دل کو جانچیں اور اپنی نیت کو آج ہی پرکھیں اور یقین دہانی کر لیں کہ کہیں وہ خودغرضی پر مبنی تو نہیں ۔ دل سے صیح نیت کے ساتھ خدا کی خدمت کرنے کا فیصلہ کریں۔

یہ دُعا کریں:

اَے پاک روح آج میرے دل کو جانچ اور میری حقیقی نیت اورارادوں کو مجھ پر ظاہر کر۔اگر میرے دل کے کسی بھی حصّہ میں کھوٹ ہے تو اُس کو مجھ پر ظاہر کراور میری مدد کر کہ میں اپنی نیت کو تبدیل کروں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon