خُدا کا کلام موثر دوا کی مانند ہے

خُدا کا کلام موثر دوا کی مانند ہے

وہ اپنا کلام نازل فرما کر اُن کو شفا دیتا ہے اوراُن کو ہلاکت سے رہائی بخشتا ہے۔ زبور ۱۰۷: ۲۰

بہت سے لوگ شفا پر اِیمان ہی کو شفا سمجھ بیٹھتے ہیں اورخُدا کی تجویز کردہ دوا یعنی اس کے کلام کو نوش نہیں کرتے۔ وہ نہ تو خُدا کے کلام کو پڑھتےہیں اورنہ ہی اِس پر عمل کرتے ہیں اورکہتے ہیں ’’میں شفا پراِیمان رکھتا/رکھتی ہوں۔‘‘ کیا کوئی دوا استعمال کے بغیر فائدہ پہنچا سکتی ہے؟

خدا کا کلام دوا کی مانند ہے۔۔۔ یہ شفا کا وسیلہ ہے جیسا کہ کوئی بھی قدرتی دوا شفا کا وسیلہ یا ذریعہ ہوتی ہے۔ دوسرے الفاظ میں دوا کے اندر شفا جاری کرنے کی اہلیت ہوتی ہے۔ خد اکے کلام میں آپ کے بدن کے لئے شفا کی اہلیت، زندگی، قدرت اور فطرت موجود ہے۔

توسوال یہ ہے کہ آپ اس کو کس طرح استعمال کرسکتے ہیں؟جیسے ہی خدا کا کلام آپ کے دل میں جڑ پکڑتا اورقائم رہتا ہے یہ آپ کے بدن میں شفا پیدا کرتا ہے۔ محض دماغی علم سے کچھ نہیں ہونے والا۔ ضرورت اس با ت کی ہے کہ کلام آپ کے ذہن اور دل میں گیان دھیان،سننے،غور کرنے اور اس پر باربار جگالی کرنے سے بس جائے جس سے آپ کے بدن میں شفا پیدا ہوگی۔ جیسے ہی کلام آپ کے دل میں اُتر جائے گا یہ آپ کے سارے بدن میں صحت کا سبب بنے گا۔ آج ہی خد اکے کلام کو اپنے دل کی گہرائی میں اُترنے دیں۔

یہ دُعا کریں:

اَے خدا آج میں تیرے شفا بخش کلام پر گیان دھیان کرنے کا فیصلہ کرتا/کرتی ہوں۔ میں جانتا/جانتی ہوں کہ جب تیرا کلام میرے دل کی گہرائی میں اُتر جائے گا میرے بدن کو شفا مل جائے گی۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon