اپنے آپ کو ٹوٹنے نہ دیں

اپنے آپ کو ٹوٹنے نہ دیں

میری جان کو خدا ہی کی آس ہے میری نجات اُسی سے ہے۔ وہی اکیلا میری چٹان اور میری نجات ہے وہی میرا اُونچا بُرج ہے مجھے زیادہ جنبش نہ ہوگی۔ زبور ۶۲: ۱۔۲

کیا کبھی آپ کے ساتھ ایسا ہواکہ : کسی چیز کو جوڑنے کے لئے آپ ربر بینڈ استعمال کر رہے تھے اوروہ کھِچ کر بالکل ہی ٹوٹ گیا ہواور چونکہ آپ کے پاس کوئی دوسرا ربر بینڈ نہیں تھا اِس لئے آپ اُسی ربر بینڈ کے کناروں کو کھینچ کر جوڑنے کی کوشش میں لگ گئے ہوں۔

بعض اوقات ہم اپنے روز مرہ کے کاموں اپنے آپ کواپنی طاقت سے زیادہ کھینچتے ہیں اور پھر ہم ربر بینڈ کی طرح ٹوٹ جاتے ہیں۔ اور کناروں کو زبردستی جوڑ کو ہم سوچتے ہیں کہ ہم نے مسئلہ حل کر دیا ہے ۔ اور جلد ہی کسی اور مسئلہ کا شکار ہوکر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔

باربارذہنی دباوٗ کا شکار ہونے کی وجہ سےہماری زندگیاں بھی اس ٹوٹے ہوئے ربربینڈ کے مشابہہ ہو جاتی ہیں۔ ایسی حالت ہمیں بالکل خالی کر دیتی ہے۔

اگر ہم اپنی زندگیوں کے لئے خد اکے کلام کی حدود کو پامال کرتے ہیں تو ہم تھک کر چورہوجائیں گے۔اگر آپ مسلسل اپنے ذہن، جذبات اورجسم سے زیادہ مشقت کا کام لیں گے تو آپ کو اِس کی قیمت اَدا کرنی پڑے گی۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم اس طرح زندگی بسرنہ کریں۔

آپ کے خیالات خدا کے خیالات کی مانند ہونے چاہیں۔اپنے بدن کی تعظیم کریں۔ یہ سمجھ لیں کہ صحت ایک انمول تحفہ ہے۔ ذہنی دباوٗ کی وجہ سے اپنی طاقت کو ضائع نہ کریں۔ اس کو زندگی سے لطف اندوزہونے اور زندگی گزارنے کے لئے بچا کر رکھیں۔

یہ دُعا کریں:

اَے خدا میں تجھ میں اپنے لئے اطمینان کو ڈھونڈنا چاہتا/چاہتی ہوں۔ میری مدد کر کہ میری رفتار تیری مرضی کے مطابق ہو تا کہ میں باربارٹوٹنے سے بچ جاوٗں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon