خوف کے آگے اپنے گھٹنے نہ ٹیکیں

خوف کے آگے اپنے گھٹنے نہ ٹیکیں

جس وقت مجھے ڈر لگے گا میں تجھ پر توکل کروں گا۔ زبور ۵۶: ۳

خوف خُدا کی طرف سے نہیں بلکہ اِبلیس کی طرف سے ہے، پس جب بھی آپ کو اپنی زندگی میں خوف محسوس ہو توجان لیں کہ دشمن آپ کے خلاف حملہ آورہے۔ میں اکثر یہ سکھاتی ہوں کہ خوف’’اُستاد(حاکم)روح‘‘ ہے۔ یہ وہ روح ہے جو اِبلیس خدا کے لوگوں پر بادشاہی کرنے اورحقیقی مالک خُداوند یسوع مسیح کے اختیارمیں آنے سے روکنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔

بے شمار لوگ صرف اس لئے اپنی زندگی میں خدا کے بلاوے کو پورا نہیں کر پاتے کہ جب بھی آگے قدم بڑھانا چاہتے ہیں ابلیس خوف کو استعمال کر کے ان کو روک دیتا ہے۔ کیا وہ آپ کو روکنے کے لئے خوف کو استعمال کررہا ہے؟ ابلیس خوف کو استعمال کرتا ہے تاکہ لوگوں کو زندگی سے لطف اندوز ہونے سے روکے۔ خوف سے اذیت پیدا ہوتی ہے،اور یقیناً آپ تکلیف اُٹھاتے ہوئے زندگی سے لطف اندوز نہیں ہوسکتے۔

جب اِبلیس خوف پیدا کرے تو آپ کو اس کے آگے گھٹنے نہ ٹیکنے کا فیصلہ کرنا ہے۔ داوٗد کہتا ہے،’’جب مجھے ڈر لگے گا میں تجھ پر بھروسہ کروں گا‘‘میرا اِیمان ہے اور یہ درست بھی ہے کہ آپ جب بھی پورے دِل سے خدا کو ڈھونڈنے اور اس کی پیروی کا عہد کرتے ہیں دشمن خوف کے ہتھیار سے آپ پرحملہ آور ہوتا ہے۔ بہر حال اگر آپ اپنا اعتقاد اوربھروسہ خدا پررکھتے ہیں وہ آپ کی مدد کرے گا تاکہ آپ اپنے خوف پر فتح پا کر آگے بڑھ سکیں۔

یہ دُعا کریں:

اَے خُدا میں خوف کے سامنے نہیں جھکنا چاہتا/چاہتی۔ میں اپنا اعتقاد اوربھروسہ تجھ پر لگاتا / لگاتی ہوں کیونکہ خوف کا مقابلہ کرنے کے لئے حوصلہ اورقوت کے لئے  میں تجھ پر تکیہ کرسکتا/سکتی ہوں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon