خُدا اچانک کلام کرتا ہے

تو نے میرے ماتم کو ناچ سے بدل دیا۔ تو نے میرا ٹاٹ اُتار ڈالا اور مجھے خوشی سے کمر بستہ کیا۔        ( زبور ۳۰ : ۱۱)

۱۹۷۶، فروری کے مہینہ میں ایک جمعہ کی صبح میں بہت زیادہ جھنجھلاہٹ اورپریشانی کا شکار تھی۔ میرا خیال تھا کہ میں وہ سب کچھ کر رہی ہوں جو میری کلیسیا مجھ سے چاہتی ہے اور جو میری عقل کے مطابق خدا کی مرضی ہے لیکن میں کوئی بھی کام ٹھیک سے نہیں کر پارہی تھی اور  بہت حد تک بے دل ہو چکی تھی۔ میں جانتی تھی میری زندگی میں تبدیلی کی ضرورت ہے لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ تبدیلی دراصل ہے کیا۔ میں جانتی تھی میں تلاش میں تھی لیکن یہ نہیں جانتی تھی کہ کیا تلاش کررہی تھی

اُس صبح میں نے خدا کے سامنے چلاتے ہوئے اس سے کہا کہ میں مزید آگے نہیں بڑھ سکتی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے یوں دُعا کی،’’اَے خُدا، کسی چیز کی کمی تو ضرور ہے، میں نہیں جانتی  لیکن کسی چیز کی کمی تو ہے۔‘‘

میں حیران ہوگئی کہ اس نے مجھ سے بآوازِ بلند کلام کیا، اس نے میرا نام پکارا اور مجھے صبر کرنے کی تلقین کی۔ اس کے بعد میں جانتی تھی کہ وہ میرے حالات کے بارے میں ضرور کچھ کرے گا۔اسی دن کچھ دیر کے بعد جب میں اپنی کار میں تھی خُداوند یسوع نے مجھے اپنے پاک روح سے بڑے انوکھے طریقے سے معمور کیا ،مجھے ایسا تجربہ پہلے کبھی نہیں ہوا۔ میں اس تجربہ کے احساس کو اس طرح بیان کرسکتی ہوں جیسے کسی نے مجھے اس دن محبت سے بھگو دیا ہو۔ فوراً ہی میں نے دیکھا کہ میرے اندرایک نئے اطمینان، خوشی اور محبت نے ڈیرا جما لیا ہے اور وہ میرے اندر سے بہنے لگے اور جب میں نے ایک انوکھے انداز سے دوسروں سے محبت کا اظہار شروع کیا تو میرے اِس مثبت رویے کو سب نےمحسوس کیا۔

اس صبح مجھے ہر بات میں مایوسی کا احساس ہورہا تھا۔اوراُس رات سونے سے پہلے میں جانتی تھی کہ سب کچھ نیا ہونے والا ہے۔ خدا اکثر اس طریقہ سے کام کرتا ہے؛ وہ اچانک  ہم سے کلام کرتا اور ہماری زندگیوں میں آتا ہے۔ خدا کا انتظار کرنے میں تھکاوٹ محسوس نہ کریں کیونکہ آج آپ کے لئے وہ ’’اچانک ‘‘والا دن آج کا دن بھی ہوسکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے لئے خُدا کا کلام:

ہوسکتا ہے کہ آج آپ کا وہ ’’اچانک‘‘والا دن ہو۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon