قربانی چڑھائیں

پس ہم اُس کے وسیلہ سے حمد کی قُربانی یعنی اُن ہونٹوں کا پَھل جو اُس کے نام کے اِقرار کرتے ہیں خُدا کے لئے ہر وقت چڑھایا کریں۔                       (عبرانیوں ۱۳ : ۱۵)

ہم آج کی آیت میں بیان ’’حمد کی قربانی‘‘ کی تشریح یوں کرتے ہیں:  اُس وقت  خُدا کی پرستش کرنا جب کہ ہم پرستش کرنا نہ چاہیں، بے شک یہ بھی ایک قسم کی قربانی ہوسکتی ہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ عبرانیوں کا مصنف پرانے عہد نامہ کے قربانی کے نظام کی طرف اشارہ کررہا ہے جہاں انسانوں کے گناہوں کو ڈھانپنے کے لئے جانوروں کا خون لازمی تھا۔

جب کہ ہم نئے عہد کے باسی ہیں، اوراب ہمیں مذبح پر بھیڑوں اوربکروں کو ذبح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اِس کے بجائے خُدا جوقربانی ۔۔۔۔۔۔ یعنی نذر ۔۔۔۔۔۔ ہم سے چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ ہم آج اپنی زبان سے درست الفاظ اَدا کرنا شروع کردیں۔ جیسا کہ پُرانے عہد نامہ میں جانوروں کی قربانی کا دھواں اورخوشبو اُس کے تخت کے پاس پہنچتی تھی اِسی طرح آج ہمارے دِلوں سے پرستش قربانی کے طور پر اُس کے حضور میں پہنچتی ہے۔ عبرانیوں ۱۳ : ۱۵ میں خُداوند حقیقت میں یہ کہہ رہا ہے ’’اَب جو قربانی میں چاہتا ہوں وہ تمہارے ہونٹوں کا پھَل ہے یعنی شُکرگزاری سے میرا اِقرار کرنا۔‘‘

ہمیں اِس حوالہ کا اِطلاق اپنی روزمرہ کی زندگی میں کرنا چاہیے یعنی اِس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ہرموقع پرہم خُدا کی پرستش کریں۔ ہمیں دوسروں کو اُن عظیم کاموں کے بارے میں بتانا ہےجو خُدا ہمارے لئےکررہا ہے؛ ہمیں اُس کی شُکرگزاری کرنے کی ضرورت ہے اوراُسے بتانےکی ضرورت ہے کہ ہم اُس سے پیار کرتے ہیں۔ اپنے دِلوں اوراپنی زبان سے ہمیں متواتر یہ اقرار کرنے کی ضرورت ہے، ’’اَے خُداوند میں تجھ سے مُحبّت کرتا/کرتی ہوں۔ جو کچھ تو میری زندگی میں کررہا ہے میں اُس کےلئے تیرا/تیری شُکرگزار ہوں۔اَے خُداوند آج میں تیری پرستش کرتا/کرتی ہوں کہ تو میری زندگی کی ہربات کی فکر کرتا ہے۔‘‘ ہمیں پرستش کرنے والے لوگ بننا ہے جو خُدا کو جانیں اور مانیں ’’ہروقت مسلسل ،‘‘ متواتراُس کو حمد کی قربانی پیش کرتے رہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج آپ کے لئے خُدا کا کلام: آج جتنا زیادہ آپ خُدا کی حمد کرسکتے ہیں، کریں۔

Facebook icon Twitter icon Instagram icon Pinterest icon Google+ icon YouTube icon LinkedIn icon Contact icon