اَے ریا کار پہلے اپنی آنکھ میں سے تو شہتیر کو نکال پھر اپنے بھائی کی آنکھ میں سے تنکے کو اچھّی طرح دیکھ کر نکال سکے گا۔ متّی 7 : 5
لوگوں سے بِنا کسی شرط کے مُحبّت کرنا ایک ایسا عظیم تحفہ ہے جو ہم اُنہیں (اور خود کو) دے سکتے ہیں۔ میں نے سیکھا ہے کہ میرے شخصی اطمینان کا ایک بھید یہ ہے کہ لوگوں کو ان کی اصلیت کے ساتھ قبول کرنا، اور ان کو اپنی پسند کے مطابق ڈھالنے کی کوشش نہ کرنا۔ میں پوری کوشش کرتی ہوں کہ ان کی خوبیوں سے لطف اندوز ہوں اور ان کی کمزوریوں میں رحیم کیونکہ میرے اندر بھی بہت سی کمزوریاں ہیں۔ مجھے کسی کی آنکھ کا تنکا نکالنے کی ضرورت نہیں ہے جب کہ میری اپنی ہی آنکھ میں ایک بہت بڑے کھمبے جیسا شہتیر ہو۔
ایک فیصلہ کریں کہ کسی کی غلطیوں پرـــــ یا ان کی طرف ـــــ دھیان نہیں دیں گے۔ یہ ہم سب میں موجود ہیں! اور آپ کو ان پر غور کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
آج کا قوّی خیال: خُدا میرے ساتھ میری کمزوریوں میں رحیم ہے اور میں دوسروں کی کمزرویوں میں اُن کے ساتھ رحم دِلی سے پیش آتا/آتی ہوں۔