موت اور زندگی زبان کے قابو میں ہیں اور جو اُسے دوست رکھتے ہیں ــــ اِس کا پھل کھاتے ہیں۔ امثال 18 : 21
ہماری سوچیں ہماری گفتگو کو متاثر کرتی ہیں اور ہماری زبان ہماری زندگی پر اَثر انداز ہوتی ہے ـــــ الفاظ میں قوّت ہوتی ہے، اور یہ براہ راست ہمارے جذبات پر اَثر انداز ہوتے ہیں۔ الفاظ اچھّے یا بُرے موڈ کا سبب بنتے ہیں؛ دراصل یہ ہمارے رویے کو تشکیل دیتے ہیں اور ان کا ہماری زندگیوں اور تعلقات پر بڑا اَثر ہوتا ہے۔
امثال 21 : 23 میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ ہم اپنے منہ اور زبان کی نگہبانی کریں تاکہ مصیب سے بچے رہیں۔ امثال میں ہمیں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ "زندگی اور موت زبان کے قابو میں ہیں ” (امثال 18 : 21)۔ اِس سے زیادہ واضح اور کیا پیغام ہوسکتا ہے: اگر آپ مثبت اور اچھّی باتیں کرتے ہیں، تو آپ اپنے لئے زندگی کو منتخب کرتے ہیں۔ اپنی خوشی کو بڑھاتے ہیں۔ جب کہ اگر آپ منفی گفتگو کریں گے تو آپ اپنے لئے موت اور مصیبت کو چُنتے ہیں ـــــ آپ کی اُداسی بڑھ جائے گی اور آپ کا موڈ بگڑ جائے گا۔آپ کے پاس زندگی اور موت کے بیچ میں چناؤ کا موقع ہے، مثبت یا منفی ـــــ پس حکمت سے چنُیں!
آج کا قوّی خیال: میں زندگی بخش گفتگو کا چناؤ کرتا/کرتی ہوں۔