یعنی خُداوند خُدا یوں فرماتا ہے کہ پچھلی باتوں کو (تندہی سے) یاد نہ کرو اور قدیم باتوں پر سوچتے نہ رہو۔ دیکھو میں ایک نیا کام کروں گا۔ یسعیاہ 43 : 18 -19
بہت سے لوگ ماضی میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہوئی ہے یا کسی نے ان کے ساتھ برائی کی ہے، ان کو یقین ہے کہ وہ کبھی بھی ان خیالات سے باہر نہیں آسکتے۔اور ابلیس یہی چاہتا ہے کہ لوگ ایسا اِیمان رکھیں، لیکن خُدا کے کلام کے مطابق یہ سچ نہیں ہے۔ ہم اپنے ماضی کی بُری یادوں سے باہر آسکتے ہیں، یہاں تک کہ خُدا ان چیزوں سے ہمارے لئے بھلائی پیدا کرسکتا ہے۔ خُدا چھٹکارا دینے والا ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارے اندر یا ہماری زندگی میں جو بھی بُرائی ہے اُسے لے لیتا ہے اور اُس کو کسی خوبصورت چیز میں بدل دیتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ نے اپنے ماضی میں کیا کیا ہے یا آپ کے ساتھ کیا ہوا ہے، میں آپ کو چیلنج کرنا چاہتی ہوں کہ یہ جملہ دہرائیں اور نیا آغاز کریں،”مجھے معافی مِل گئی ہے، خُدا میری زندگی کے لئے ایک اچھّا منصوبہ رکھتا ہے، اور میں کبھی بھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھوں گا/گی۔”
آج کا قوّی خیال: میں اپنے ماضی کو بھُلا سکتا/سکتی ہوں کیونکہ خُدا میری زندگی میں ایک نیا کام کررہا ہے۔