اور خُداوند کا فرشتہ اُسے دکھائی دے کر اُس سے کہنے لگا کہ اَے زبردست (بے خوف) سورما ! خُداوند تیرے ساتھ ہے۔ قضاۃ 6 : 12
قضاة کی کتاب میں خُدا نے ایک شخص بنام جدعون کے وسیلہ کام کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ بنی اسرائیل کو غلامی سے چھٹکارا بخشے۔ لیکن جب فرشتہ جدعون کو بلانے کے لئے اُس کے پاس آیا ، جدعون اپنی کمزوریوں کی فہرست سُنانے لگ گیا اور ایسی وجوہات بیان کرنے لگا جن کے مطابق وہ خُدا کے اس کام کو سر انجام نہیں دے سکتا تھا جس کے لئے خُدا اُسے بلا رہا تھا۔
قضاة 6 : 14 میں خُدا نے کہا "کیا میں نے تجھے نہیں بھیجا؟” دوسرے الفاظ میں "کیا میں نے تجھے کوئی ایسا کام کرنے کے لئے کہا ہے جس کے لئے میں نے تجھے توفیق نہ دی ہو؟” اور پھر اگلی آیت میں جدعون ایک اور بہانہ کے ساتھ اُس کو جواب دیتا ہے ـــــ میں بہت غریب ہوں، چھوٹا ہوں، بہت کمزور ہوں۔ چونکہ الفاظ میں قدرت ہے جدعون جو کہہ رہا تھا وہی اس کا اپنے بارے میں یقین بھی تھا
ناکہ خدا کے حوصلہ افزائی کرنے والے الفاظ۔ ۔
بہانے تراشنا چھوڑ دیں یا حالات کے بارے میں شکایت کرنا چھوڑ دیں ــــ یہ بہت مشکل ہے؛ میں نے پہلے ایسا نہیں کیا؛ یہ وہ کام نہیں ہے جس کا میں نے اِرادہ کیا تھا؛ مجھے یہ کام کرنا ہی نہیں آتا؛ میں بہت بوڑھا/بوڑھی یا جوان ہوں ہوں؛ میرا دِل نہیں کرتا، میں خوف زدہ ہوں ــــ اور جو کچھ خُدا آپ سے کرنے کے لئے کہتا ہے وہ کرنا شروع کردیں۔
آج کا قوّی خیال: جو کچھ خُدا مجھے کرنے کے لئے کہتا ہے میں کرسکتا ہوں ــــ میں کوئی بہانہ نہیں بناؤں گا/گی ــــ کیونکہ وہ میرے ساتھ ہے۔