مگر جو سچائی پر عمل کرتا ہے (جو درست کام کرتا ہے) وہ نُور کے پاس آتا ہے تاکہ اُس کے کام ظاہر ہوں ـــــ کہ وہ خُدا میں کئے گئے ہیں (خُدا کی طرف سے تحریک ملی ہو، خُدا کی مدد سے کئے گئے ہوں، اُس پر تکیہ کر کے)۔ یُوحنّا 3 : 21
ہمیں ہر قسم کے حالات میں صیح کام کرنے کا فیصلہ کرنا چاہیے یہاں تک کہ اس وقت بھی جب ہم ایسا نہ کرنا چاہتے ہوں۔ مثال کے طور پر اگر لوگوں نے آپ کو تکلیف پہنچائی ہو، تو ہوسکتا ہے کہ آپ اُن کے ساتھ اچھّا برتاؤ کرنا پسند نہ کریں یا اُن کے ساتھ بات نہ کرنا چاہیں، لیکن اگر آپ وہ کرنے کا فیصلہ کریں جو درست ہے تو پھر خُدا آپ کو جذباتی طور پر شفا دے گا۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم ان لوگوں کے لئے جنھوں نے ہمیں تکلیف دی ہے دُعا کریں اور اُن کے ساتھ ویسا ہی سلوک کرتے رہیں جیسا ہمارا اِیمان ہے کہ مسیح اُن کے ساتھ کرتا۔
عام طور پر ہم چاہتے ہیں کہ پہلے ہم بہتر محسوس کریں لیکن خُدا چاہتا ہے کہ ہم پہلے درست کام کریں چاہے ہم کیسا ہی محسوس کیوں نہ کرتے ہوں۔ روحانی ترقی کے لئے اس وقت صیح کام کرنا بےحد اہم ہے جب ہم محسوس کریں کہ ہمارے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔ جب ہم اُس وقت میں صیح کام کرتے ہیں جب ہمیں مشکل لگتا ہو یا ہمیں تکلیف ہورہی ہو تو ہم روحانی طور پر ترقّی کرتے ہیں اور جب ہمیں اگلی بار مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا تو ہم جذباتی طور پر زیادہ مضبوط ہوں گے۔
آج کا قوّی خیال: اپنے احساسات کے باوجود میں خُدا کی مدد سے صیح کام کرسکتا/سکتی ہوں۔